ملک میں مغربی ہواؤں کے داخل ہونے کے بعد بارشوں کے نئے سلسلے کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کے باعث ندی نالوں میں ڈوبنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں کم از کم دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں 31 مارچ تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں مزید تیز بارشوں اور فلیش فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ایران سے مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ منگل کی شام بلوچستان میں داخل ہوا، جس نے بدھ تک صوبے کے بیشتر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش، تیز ہوائیں اور گرج چمک کا سلسلہ جاری ہے۔
حکام کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ایرانی سرحد سے ملحقہ مکران ڈویژن کا ضلع کیچ ہے، جہاں حالیہ بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کیچ، یاسر اقبال دشتی کے مطابق تربت، ناصرآباد، مند اور تمپ میں 20 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ تمپ اور تربت میں ندی میں ڈوبنے سے دو افراد جاں بحق ہو گئے۔
ہوشاب، بلیدہ اور تمپ میں متعدد مقامات پر گھروں کی چھتیں گرنے، بجلی کے کھمبوں کو نقصان پہنچنے اور آمدورفت میں خلل کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
ان کے مطابق بلیدہ روڈ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئی تھی، جسے بعد ازاں ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا، جبکہ رودبین پل کا ایک حصہ متاثر ہونے کے باوجود ٹریفک بحال ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ میرانی ڈیم میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جو 241 فٹ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اسپل وے کی سطح 244 فٹ ہے۔ انتظامیہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
پنجگور، نوشکی، خاران، آواران، قلات، جھل مگسی، نصیرآباد، کوئٹہ، مستونگ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن اور زیارت سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش جاری رہی۔
محکمہ موسمیات کی بدھ کی صبح جاری کردہ رپورٹ کے مطابق خضدار میں 16 ملی میٹر، قلات میں 14، چمن میں 11 اور پشین میں 9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ کئی علاقوں میں سردی کی شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں بھی بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش، تیز ہوائیں اور بعض مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے، جبکہ شمال مشرقی اور جنوب مغربی علاقوں میں ہلکے سے درمیانے درجے کے سیلابی ریلوں کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خاران، تربت، کیچ، نوشکی اور پنجگور میں آج رات اور جمعرات کو تیز بارشوں کے باعث ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا خطرہ موجود ہے۔
بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی بارشوں کے باعث حادثات پیش آئے ہیں۔ کوہلو میں چھت گرنے کے واقعات میں دو افراد زخمی ہوئے، جن میں سے ایک کو تشویشناک حالت میں ملتان منتقل کر دیا گیا۔
ہرنائی میں ایک مکان کی چھت گرنے سے چھ سالہ بچی زخمی ہوئی، جبکہ جعفرآباد میں ایک 15 سالہ لڑکا ہیردین ڈرین میں ڈوب کر لاپتہ ہو گیا ہے، جس کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جھل مگسی کے علاقے گنداواہ میں بھی مکان کی چھت گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام اضلاع کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر پیشگی اقدامات کیے جائیں۔
حکام نے شہریوں، خصوصاً مسافروں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








