صوبہ خیبرپختونخوا میں سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے رضاکار فورس کی رجسٹریشن اور حلف برداری کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی قیادت نے کارکنوں کو نہ صرف رضاکار فورس تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے بلکہ ان سے باقاعدہ حلف لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور صوبائی صدر جنید اکبر کی قیادت میں جمعے کو رجسٹریشن کا عمل شروع ہوگا، جبکہ اسی موقع پر رضاکاروں سے حلف بھی لیا جائے گا۔
صوبائی صدر جنید اکبر کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق “جمعے کو پشاور میں عمران خان رہائی فورس سے حلف لیا جائے گا، جس میں کارکنوں کے ساتھ ساتھ اراکینِ اسمبلی بھی شریک ہوں گے۔”
رضاکاروں سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ اور پارٹی قیادت آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی غور کرے گی۔
پشاور سے منتخب ہونے والے رکنِ صوبائی اسمبلی فضلِ الٰہی کا کہنا ہے کہ “پشاور کے کارکنوں نے پہلے بھی قربانیاں دی ہیں اور اس بار بھی ہر احتجاجی مظاہرے میں فرنٹ لائن پر موجود رہیں گے۔ عمران خان رہائی فورس کی رجسٹریشن میں پشاور کے کارکن سب سے زیادہ ہوں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “عمران خان کی رہائی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے، ورنہ کارکن قیادت کے بغیر ہی احتجاج شروع کر دیں گے۔”
فضلِ الٰہی کے مطابق پارٹی حکمتِ عملی کے تحت ہر ویلیج کونسل کی سطح پر سینئر کارکنوں پر مشتمل رضاکار فورس تیار کی جا رہی ہے تاکہ احتجاج کو مؤثر بنایا جا سکے۔
رضاکاروں سے ملاقات میں وزیراعلیٰ اور پارٹی قیادت آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرے گی۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پارٹی کے منتخب سینیٹرز، اراکینِ قومی اسمبلی اور اراکینِ صوبائی اسمبلی سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ احتجاج کے دوران میدان نہ چھوڑنے کا حلف دیں۔
پارٹی کے ایک سینئر کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “اس سے قبل ہونے والے احتجاجوں میں سینیٹرز اور اراکینِ قومی اسمبلی اکثر غیر حاضر رہے۔ یہ افراد عمران خان کے نام پر عہدوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن مشکل وقت میں پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ “اس بار کارکنوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو واضح کر دیا ہے کہ احتجاج میں عوامی نمائندے اور کابینہ کے ارکان سب سے آگے ہوں گے، جس کے بعد کارکن شامل ہوں گے۔”
کارکنوں کے مطابق احتجاج کے دوران منظر عام سے غائب رہنے والے افراد کے بارے میں پارٹی قیادت کو آگاہ بھی کر دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








