کالعدم ٹی ٹی پی سے معاہدہ، کیا دہشت گردوں کی رہائی سے امن ممکن ہے ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Agreement with banned TTP: Is peace possible with release of its member?

افغانستان میں طالبان کے غلبے بعد پاکستان میں بھی ان دنوں امن و امان کے قیام کیلئے کالعدم تنظیموں کیساتھ سیز فائر کیلئے امن معاہدے کئے جارہے ہیں جبکہ کالعدم تنظیموں کے مطلوب دہشت گردوں کو بھی رہائی کرنے پر آمادگی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں جس کے بعد سنجیدہ حلقوں میں یہ موضوع زیر بحث ہے کہ کیادہشت گردوں کی رہائی سے امن ممکن ہے ۔

کالعدم ٹی ٹی پی
تحریک طالبان پاکستان یا کالعدم تحریک طالبان دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے مسلح گروہوں کا گروہ ہے اور تحریک طالبان پاکستان کے رہنماوں نے افغان طالبان کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے۔

ماضی میں متعدد حلقوں کی اپیل کے باوجود ملا عمر نے ان کی مذمت یا ان سے لاتعلقی کرنے سے انکار کر دیاتھااوران کی کارروائیوں کا دائرہ کار پاکستان سے لے کر افعانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستانی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کو 34 تنظیموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

تحریک طالبان سے مذاکرات
حکومت اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان رواں برس فروری میں شروع ہونے والے مذاکرات میں پیشرفت کی اطلاعات ہیں۔ پہلا اجلاس کابل میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہوا جس کے بعد دو سیشن افغانستان کے صوبہ خوست میں ہوئے جہاں دونوں جانب سے بامقصد مذاکرات کی تجاویز پیش کی گئیں۔میڈیا ذرائع کے مطابق تحریک طالبان پاکستان سیز فائر کا اعلان کرے گی، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امن معاہدہ چند روز میں منظر عام پر آئے گا تاہم پاکستان حکومت اور کالعدم تحریک طالبان نے اس حوالے سے تصدیق نہیں کی۔

کالعدم تحریک کے مطالبات
حکومت کی جانب سے مذاکرات کافائدہ اٹھاتے ہوئے کالعدم تنظیم نے سیز فائر کے بدلے دہشت گردوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور ذرائع کے مطابق حکومت نے 102 قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق بھی کرلیا ہے اور اطلاعات یہ بھی ہیں کہ قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ ہوچکا ہے جس پر یکم نومبر بعد ازاں 4 نومبر کو عملدرآمد ہونا تھا جو چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر موخر کردیا گیا ہے۔

قیدیوں کی رہائی
حکومت پاکستان کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کے بعد کالعدم تحریک طالبان کے رہائی پانے والے دہشت گردوں میں سوات کی اعلیٰ طالبان قیادت محمود خان اور مسلم خان کے علاوہ کالعدم تنظیم کے سابق ترجمان مولوی عمر بھی شامل ہیں۔

مذاکرات میں ثالثی
کالعدم تحریک طالبان اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ذمہ داری افغان طالبان نے وزیردفاع سراج الدین حقانی کو سونپی جبکہ مولوی فقیر محمد نے خود بھی امن عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ذرائع کاکہنا ہے کہ امن عمل کی راہ میں زیادہ تر رکاوٹیں ختم ہوچکی ہیں اور معاہدے تقریباً طے پاچکا ہے صرف اعلان باقی ہے۔

اصل خطرہ
مبصرین کے نزدیک افغانستان کے غیر مستحکم ہونے کی صورت میں کالعدم تحریک طالبان، داعش اور دیگر گروہ مزید متحرک ہوکر پاکستان کو گزند پہنچاسکتے ہیں اور یہی اولین وجہ ہے کہ مملکت پاکستان کے سرکردہ لوگ متذکرہ بالامعاہدے کرکے افغانستان کے ابھرتے خطرات سے بچنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں امن کیلئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔

امن کاقیام
کالعدم تحریک طالبان سے ماضی میں بھی امن مذاکرات کی کوششیں کی جاچکی ہیں تاہم یہ کوششیں  باآور ثابت نہیں ہوئیں لیکن اس بار افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد مبصرین پرامید ہیں کہ افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کو امن معاہدے پر عملدرآمد کیلئے پابند کرسکتے ہیں کیونکہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

باہمی اعتماد کی فضاء میں ہونیوالے مذاکرات سے اگر امن ممکن ہوتا ہے تو نہایت خوش آئند ہے لیکن حکومت کو ماورائے قانون قیدیوں کو چھوڑنے سے پہلے آئین و قانون کو ضرورت مد نظر رکھنا چاہیے تاکہ معاہدے کی تکمیل کے بعد کوئی قانونی رخنہ امن کی راہ میں دراڑ نہ ڈال سکے۔

Related Posts