ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا، اردو کے باکمال شاعر احمد فراز کا 95واں یومِ پیدائش

تازہ ترین

تازہ ترین

احمد فراز
(فوٹو: آن لائن)

اردو زبان کے نامور اور باکمال شاعر احمد فراز کا 95واں یومِ پیدائش آج منایا جارہا ہے، فراز کا نام مرزا غالب، علامہ اقبال اور فیض احمد فیض جیسے بڑے شعرا کے ساتھ لیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے بہت تسلسل اور مستقل مزاجی کے ساتھ معیاری شاعری اور خوبصورت غزلوں پر توجہ دی۔

تفصیلات کے مطابق احمد فراز رومانوی غزلوں کے ساتھ ساتھ سنجیدہ شاعری کا بھی معتبر نام ہے۔ اپنی زندگی میں ہی متعدد ایوارڈز اپنے نام کرنے والے احمد فراز 12 جنوری 1931 کو کوہاٹ میں ایک سیّد خاندان میں پیدا ہوئے، اصل نام سیّد احمد شاہ شاعری کے زمانے میں تبدیل ہو کر احمد شاہ کوہاٹی ہوگیا اور بعد میں احمد نام اور فراز تخلص اپنا لیا۔

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گذر جائے گا

ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فرازؔ
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا

اردو زبان کے ایک اور بڑے شاعر فیض احمد فیض سے مشاورت کے بعد انہوں نے اپنا نام بدل کر احمد فراز رکھ لیا۔ ابھی گریجویشن کر رہے تھے کہ پہلا شعری مجموعہ تنہا تنہا شائع ہوکر قارئین کے ہاتھوں میں آگیا جسے بے حد سراہا گیا۔ فراز کی مقبولیت جلد ہی بامِ عروج کو چھونے لگی اور خاص طور پر نوجوان نسل نے اس شاعر کو سر آنکھوں پر بٹھایا۔

فرازؔ ترک تعلق تو خیر کیا ہوگا
یہی بہت ہے کہ کم کم ملا کرو اس سے

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

رومانوی شاعری کیلئے خاص طور پر مشہور احمد فراز نے اپنی حق گوئی، بے باکی اور باغیانہ فطرت کے باعث  1977کی فوجی بغاوت کے دوران اپنے قلم سے بغاوت کا اعلان کردیا جس کی پاداش میں انہیں 6 سال تک جلا وطنی کاٹنی پڑی، تاہم وہ اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔

شکوہَ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور پھر وہ دور بھی آیا جب احمد فراز کی شاعری صرف کتابوں یا مشاعروں تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے مختلف فلموں کیلئے گیت نگاری بھی کی اور ملکۂ ترنم نور جہاں سمیت متعدد گلوکاروں نے ان کی غزلیں گائیں اور داد سمیٹی۔

سابق وفاقی وزیر شبلی فراز کے والد احمد فراز2008 میں بیمار ہو گئے۔ 25 اگست 2008 کے روز احمد فراز نے داعئ اجل کو لبیک کہہ دیا۔ فراز نے اپنا نام اور مقام انتہائی محنت سے تخلیق کی گئی خوبصورت شاعری سے بنایا جسے آج بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔

Related Posts