مصنوعی ذہانت سے چلنے والا جدید بینک، پاکستان کے مالیاتی شعبے میں نئی اننگز کا آغاز

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

متحدہ عرب امارات کی انٹرنیشنل ہولڈنگ کمپنی (IHC) نے فرسٹ ویمن بینک میں حکومت کے تمام حصص خرید لیے ہیں، جن کی مالیت 5 ارب روپے طے کی گئی ہے۔ یہ پاکستان کی معیشت میں اصلاحات اور عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کی ایک بڑی علامت قرار دی جا رہی ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اپنی ایکس پوسٹ میں بتایا کہ آئی ایچ سی کا شمار مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے سرمایہ کار گروپوں میں ہوتا ہے جس کی مارکیٹ ویلیو 880 ارب درہم (یعنی 240 ارب ڈالر) سے زائد ہے، اور یہ دنیا بھر میں 1,300 سے زیادہ کمپنیوں کا مالک ہے جو ٹیکنالوجی، توانائی، مائننگ، انفراسٹرکچر، مالیاتی خدمات اور صحت جیسے شعبوں میں سرگرم عمل ہیں۔

کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ فرسٹ ویمن بینک کو مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید ڈیجیٹل بینک میں تبدیل کیا جائے گا جو خودکار نظام، آٹومیشن اور عالمی معیار کے تقاضوں کے مطابق پاکستان کے مالیاتی شعبے میں نئی روح پھونکے گا۔

یہ سرمایہ کاری IHC کے پاکستان میں اربوں ڈالر کے جاری منصوبوں کا حصہ ہے، جبکہ اس کے ذیلی ادارے “انٹرنیشنل ریسورسز ہولڈنگ” (IRH) پہلے ہی توانائی اور معدنیات کے بڑے منصوبوں میں سرگرم ہیں۔

خرم شہزاد کے مطابق یہ سنگ میل عالمی منڈیوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان اصلاحات، شفافیت اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے، جہاں طویل المدتی سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن، ریاض، ابوظہبی اور بیجنگ میں ہونے والی حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں، آئی ایم ایف کے مثبت جائزے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں کی اپ گریڈز کے بعد پاکستان اب خود کو ایک مضبوط، پُراعتماد اور سرمایہ کار دوست ملک کے طور پر منوا رہا ہے۔

مشیرِ خزانہ کے مطابق نجکاری کے اس عمل کو اب تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا تاکہ ان کامیابیوں کو نجی شعبے کی قیادت میں پائیدار اقتصادی ترقی میں بدلا جا سکے۔

Related Posts