اسلام آباد: وفاقی وزارتِ صحت نے اعتراف کیا ہے کہ دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں ایکوائرڈ امیونو ڈیفیشینسی سنڈروم (ایڈز) کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی چیئرمین سینیت مرزا آفریدی نے سینیٹ اجلاس کی صدارت کی۔ وقفۂ سوالات کے دوران وزارتِ قومی صحت نے تحریری طور پر اعتراف کیا کہ پاکستان میں ایڈز کی مریضوں کی تعداد میں اضافے کی شرح دیگر ایشیائی ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔
وزارتِ قومی صحت کا تحریری خط میں کہنا ہے کہ استعمال شدہ سرنجیں دوبارہ استعمال کر لی جاتی ہیں۔ لوگ ٹیسٹنگ اور علاج نہیں کراتے، اور خون کو ٹیسٹ کیے بغیر منتقل کرنا ایڈز پھیلنے کی بڑی وجوہات ہیں جس پر سینیٹرز نے تشویش کا اظہار کیا۔
پاکستان میں کورونا کے2ہزار 799نئے کیسز رپورٹ، 37مزید شہری جاں بحق
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








