بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں کہ وہ کسی عہدے کی اہل نہیں ہیں، بلکہ وہ صرف اپنے بھائی کا ساتھ دیتی ہیں۔ ان کے مطابق ان سے زیادہ کمیٹڈ اور قابل افراد کو آگے آنا چاہیے۔
اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان پارٹی کے چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بانی نے سیاسی جماعت بنانے کے لیے 30 سال صرف کیے، اس لیے پارٹی کو ان کے وژن کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ تمام لوگوں کو خوف کا بت توڑنا ہوگا، کیونکہ عوام کو اپنی قیادت سے توقعات وابستہ ہیں کہ وہ ڈٹ کر کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ ڈالنے والوں کا حق ہے کہ وہ اپنے نمائندوں سے سوال کریں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پارٹی سے 9 اپریل کو جلسہ نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق جب حکومت پر اتنا دباؤ تھا تو پارٹی قیادت کو چاہیے تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کرتی، جبکہ حکومت مذاکرات جاری رکھتی اور ہم پُرامن رہتے۔
ایران اور امریکا مذاکرات سے متعلق سوال پر علیمہ خان نے کہا کہ ایران سچ بول رہا ہے اور اعتماد سازی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب دونوں فریقین کی نیت صاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان زیادہ کردار ادا نہیں کر سکتا کیونکہ ایک طرف معاہدے ہوتے ہیں اور دوسری جانب ٹرمپ مختلف بات کرتے ہیں، اس لیے وہ قابلِ اعتبار فریق نہیں لگتے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








