پاکستانی باکسنگ کی سینئر شخصیت اور سابق جوائنٹ سیکریٹری پاکستان باکسنگ فیڈریشن علی اکبر شاہ قادری نے کہا ہے کہ باکسنگ میں سارا مسئلہ نیک نیتی، میڈیا کوریج اور مالی سپورٹ کا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق جیوری کے اولمپک باکسنگ جج اور سابق جوائنٹ سیکریٹری پاکستان باکسنگ فیڈریشن علی اکبر شاہ قادری نے کہا کہ پاکستان میں اولمپک باکسنگ اور پروفیشنل باکسنگ دونوں میں باکسروں کا شاندار مستقبل ہے،لیکن سارا مسئلہ نیک نیتی ، میڈیا کی حقیقی کوریج اور مالی سپورٹ کا ہے۔اولمپک باکسنگ کے حوالے سے مرحوم پروفیسر انور چوھدری کی خدمات پاکستان،ایشیاء اور انٹرنیشنل سطح پر ناقابل فراموش ہیں۔
باکسنگ کے معتبر نام علی اکبر شاہ قادری نے کہا کہ 2006ء کے بعد عالمی سطح پر اور 2008ء کے بعد قومی سطح پر آج تک نہ پروفیسر انور چوہدری کا نعم بدل پیدا ہوسکا اور نہ ہی ان کا خلا پر ہوسکا۔پیشہ ورانہ سطح پر پاکستان کے اولمپک برانز میڈلسٹ حسین شاہ نے پہل کی اور کئی پروفیشنل مقابلوں میں جاپان میں رہتے ہوئے حصہ لیا جبکہ اولمپیئن حسین شاہ،اولمپیئن حیدر علی ھزارہ، اولمپیئن عبدالرشید بلوچ باکسنگ کے بڑے نام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ حقیقی کردار ہیں جنہیں ملکی سطح پر وہ پذیرائی نہیں ملی جو پاکستانی باکسنگ ھیروز کی حیثیت سے انکا حق تھا۔پاکستان باکسنگ کونسل کے قیام کا بھی حقیقی کریڈٹ ایک پاکستان اولمپیئن عبدالرشید بلوچ کو جاتا ہے جبکہ لاھور اور کراچی میں 19دسمبر کو منعقد ہونے والے عامر خان اور حسین شاہ کے نام سے منسوب دونوں پروفیشنل باکسنگ شو بھی رشید بلوچ کی پاکستان باکسنگ کونسل کی اجازت سے ہوئے۔
علی اکبر شاہ قادری نے کہا کہ جس طرح بھرپور طریقے سے کراچی اور لاھور کے پروفیشنل باکسنگ شو کو سرکاری اور میڈیا سپورٹ ملی اگر اسی طرح اولمپک باکسنگ کو سپورٹ مل جائے تو پاکستان میں حقیقی ٹیلینٹڈ باکسروں کی وہ کھیپ تیار ہوسکتی ہے جن میں پاکستان کے پرچم کو قومی ترانے کے ساتھ بلند کرنے کی بھرپورصلاحیت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: تیسرا ٹی ٹوئنٹی میچ، پاکستان نے نیوزی لینڈ کو 4 وکٹوں سے ہرا دیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








