پاکستانی گلوکار اور اداکار علی ظفر ایک بار پھر سوشل میڈیا پر شدید بحث کا مرکز بن گئے ہیں جب انہوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں بالی ووڈ کے مشہور گانے دردِ ڈسکو سے متعلق ایک ایسا دعویٰ کیا جس نے آن لائن پلیٹ فارمز پر ہلچل مچا دی۔
میزبان عمر ملک کے ساتھ گفتگو کے دوران علی ظفر نے دعویٰ کیا کہ بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان نے ذاتی طور پر ان سے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ فلم اوم شانتی اوم کے مشہور گانے کے لیے آواز دیں۔ ان کے مطابق یہ ممکنہ تعاون اس وقت مکمل نہ ہو سکا کیونکہ اس دوران وہ بھارت میں دستیاب نہیں تھے اور گانے کی تیاری آخری مراحل میں تھی۔
یہ بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل دیکھنے کو ملا۔ کئی صارفین نے اس دعوے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے طنزیہ تبصرے اور میمز کا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ کچھ لوگوں نے اس کہانی کو مبالغہ آمیز قرار دیا۔ دوسری جانب ان کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی آواز اس گانے کے لیے موزوں ثابت ہو سکتی تھی۔
اس انٹرویو میں علی ظفر نے صرف اس متنازع دعوے پر بات نہیں کی بلکہ اپنی نجی اور پیشہ ورانہ زندگی کے مشکل دور کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے ہراسانی کے الزامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو ذہنی اور جذباتی طور پر انتہائی تکلیف دہ قرار دیا۔
یاد رہے کہ اس کیس سے متعلق حالیہ قانونی پیش رفت میں لاہور کی ایک عدالت نے حال ہی میں ہتکِ عزت کے طویل مقدمے میں علی ظفر کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔ گلوکار نے اس فیصلے کو اپنی سچائی کی تائید قرار دیتے ہوئے اسے ایک اہم قانونی کامیابی کے طور پر بیان کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








