تباہ حال یونیورسٹی روڈ نے 4 مزدور نگل لیے! امیر جماعت اسلامی کراچی کا تہلکہ خیز انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے اتوار کے روز صوبائی اور شہری حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے میں مسلسل تاخیر اور ناقص انتظامات نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی سست روی کے باعث اب تک چار مزدور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

یونیورسٹی روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر نے ریڈ لائن منصوبے کو کراچی کے عوام کے لیے ایک عذاب قرار دیا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی کی حکومت نے عوام کو دھوکہ دیا ہے کیونکہ یہ منصوبہ 2023 میں مکمل ہونا تھا مگر اب تک التوا کا شکار ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلسل کام رکنے اور تاخیر کی وجہ سے چار مزدور اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ انہوں نے سندھ میں گزشتہ 18 سال سے حکمرانی کرنے والی جماعت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں شہر شہر نہیں رہے بلکہ ہر شہر میں سڑکوں اور اداروں کی حالت خراب ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ کی خستہ حالی نے نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ کاروباری مراکز کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

منعم ظفر نے کراچی میئر کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 55 ارب روپے کے مبینہ فنڈز کہاں خرچ کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ شہر سے کچرا کیوں نہیں اٹھایا جا رہا اور صفائی کی صورتحال کیوں بدترین ہے۔ ان کے مطابق اس تمام صورتحال پر میئر کو جواب دینا ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے حکومت کے ترقی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مرتضیٰ وہاب اسے ایک سالِ ترقی قرار دیتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ ایک سالِ تباہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریڈ لائن منصوبے کی تکمیل کیلئے کوئی نیا شیڈول بھی سامنے نہیں آیا جبکہ عوام کی بے بسی پر اب سوشل میڈیا تک طنزیہ تبصرے ہونے لگے ہیں کہ شاید آبنائے ہرمز پہلے کھل جائے لیکن یونیورسٹی روڈ نہیں ہے۔

منعم ظفر نے کہا کہ کراچی کے عوام کو وڈیرہ شاہی کے ذریعے غلام بنانے کا کھیل اب زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ ان کے مطابق جماعتِ اسلامی عوام کو اس نظام کے خلاف متحرک کرے گی اور حق و انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

واضح رہے کہ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کراچی میئر کے دفتر کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا جبکہ خبر کی کوریج کے وقت صوبائی اور شہری انتظامیہ نے بھی ان دعوؤں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Related Posts