بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر بریلی سے ایک نہایت افسوسناک اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر بننے والے رشتوں کی حقیقت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ معاملہ خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک اہم سبق بن کر سامنے آیا ہے کہ آن لائن تعلقات میں احتیاط کس قدر ضروری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ہندو نوجوان آشیش نے اپنی اصل شناخت چھپاتے ہوئے انسٹاگرام پر خود کو رحمان ظاہر کیا اور ایک مسلم لڑکی سے رابطہ قائم کیا۔ بات چیت کا یہ سلسلہ وقت کے ساتھ تعلق میں بدل گیا اور بالآخر دونوں نے شادی کر لی۔
حقیقت کیسے سامنے آئی؟
یہ شادی تقریباً ڈھائی سال تک جاری رہی مگر اصل حقیقت اس وقت سامنے آئی جب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ملزم اچانک چار ماہ کے معصوم بچے کو ساتھ لے کر فرار ہو گیا جس کے بعد متاثرہ خاتون کو اصل صورتحال کا علم ہوا۔
شوہر کے فرار ہونے کے بعد متاثرہ خاتون نے انصاف کے حصول کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔ واقعے کے بعد حکام نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔
یہ واقعہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پر بننے والے تعلقات میں کس قدر احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ بغیر تصدیق کے کسی پر اعتماد کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور جذباتی فیصلے بعض اوقات زندگی بھر کی پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








