علامہ اقبال کا فلسفہ خودی! ایک ایسی روشنی جو نسلوں کو راہ حق دکھا رہی ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

برصغیر کے عظیم مفکر، شاعرِ مشرق اور رہنما ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 148واں یومِ ولادت آج ملک بھر میں مذہبی عقیدت و قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر مختلف سرکاری و نجی اداروں، تعلیمی تنظیموں اور ثقافتی مراکز میں تقریباتِ اقبال کا انعقاد کیا گیا ہے جن میں اقبالؒ کی شاعری، فلسفہ اور ان کے فکرِ خودی کے پیغام کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں نئی روح پھونک رہی ہے۔ اقبالؒ کی شاعری نہ صرف ادبی لحاظ سے بے مثال ہے بلکہ اس میں پوشیدہ خودی، حریتِ فکر اور ایمان کی قوت کا پیغام آج کے دور میں بھی نوجوان نسل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن چکا ہے۔

اقبالؒ کی شاعری نے غلامی کے اندھیروں میں امید کا دیا جلایا اور برصغیر کے مسلمانوں میں اپنی پہچان اور مقصدِ حیات کا شعور بیدار کیا۔ شکوہ، جوابِ شکوہ، خودی، بانگِ درا، بالِ جبریل اور ضربِ کلیم جیسی تصانیف نے ایک نئی فکری تحریک کو جنم دیا جو بالآخر قیامِ پاکستان کی بنیاد بنی۔

ادبی ماہرین کا کہنا ہے کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ فکر اور نظریۂ حیات ہے۔ ان کے اشعار میں قرآنی تعلیمات، فلسفۂ انسانیت اور اسلامی نشاةِ ثانیہ کا تصور نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ ان کی فکر نے نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنی عظمتِ رفتہ کی یاد دلائی۔

دوسری جانب علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر لاہور میں واقع مزارِ اقبالؒ پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں پاک فوج، رینجرز اور دیگر فورسز کے دستوں نے شرکت کی۔ اعلیٰ سرکاری شخصیات، علما، اساتذہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے مزار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔

Guards Changing

صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم نے اپنے پیغامات میں کہا کہ علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں میں بیداری اور خودی کا شعور پیدا کیا، ان کا تصورِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے لیے ایک رہنمائی کی کرن ثابت ہوا۔ قوم کو آج اقبالؒ کے فلسفے کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

قوم آج کے دن شاعرِ مشرق کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ عہد کر رہی ہے کہ وہ علامہ اقبالؒ کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اپنی تمام توانائیاں پاکستان کی ترقی اور وحدت کے لیے وقف کرے گی۔

ماہرینِ ادب کا کہنا ہے کہ اگر اقبالؒ کی شاعری کو سمجھا جائے تو یہ آج بھی قوم کی فکری رہنمائی کر سکتی ہے۔ ان کے یہ اشعار آج بھی زندہ ہیں؛

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے

Related Posts