افغانیوں کے ساتھ بنگالی بھی خطرہ بن گئے، پاکستان میں بنگالی طالبان بھی سرگرم، کرک آپریشن میں انکشافات نے کھلبلی مچادی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

سرکاری حکام نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے علاقے کرک کے علاقے درشہ خیل میں تھانہ شاہ سلیم کے قریب حالیہ آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے ایک بنگلہ دیشی شہری بھی شامل تھا۔

ہلاک شدہ دہشت گرد کے قبضے سے بنگلہ دیشی شناختی کارڈ، کرنسی اور دیگر ذاتی اشیاء برآمد ہوئیں جن سے اس کی شناخت کی تصدیق ہوئی۔

شناخت کے دستاویزات کی برآمدگی

Image

حکام کے مطابق برآمد شدہ اشیاء میں بنگلہ دیشی قومی شناختی دستاویزات اور کرنسی شامل تھی، جس سے کرک میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد کے غیر ملکی تعلق کی تصدیق ہوئی۔ اس انکشاف نے ایک بار پھر خطے میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس میں غیر ملکی شہریوں کی موجودگی کو اجاگر کیا ہے۔

بنگلہ دیشی شہریوں سے متعلق پچھلے واقعات

حکام کے مطابق اس سے قبل بھی دو سے تین بنگلہ دیشی شہری دیگر کارروائیوں میں مارے جا چکے ہیں۔ یہ افراد مبینہ طور پر مذہبی تبلیغ کے بہانے افغانستان گئے تھے لیکن بعد میں وہ شدت پسند دہشت گرد نیٹ ورکس کا حصہ بن گئے۔

ہفتے کے روز رپورٹ کیا گیا تھا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک 17 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

آپریشن کی تفصیلات

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن درشہ خیل کے دور افتادہ علاقے میں ملا نذیر گروپ کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا۔ پاکستان آرمی، اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) اور کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ طور پر اس مشن میں حصہ لیا۔

کرک میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی، 17 دہشت گرد ہلاک

یہ آپریشن دو دن تک جاری رہا جس میں فورسز نے دشوار گزار پہاڑی علاقے میں دہشت گردوں کو گھیرے میں لیا۔ آپریشن کے اختتام پر 17 دہشت گرد ہلاک اور 10 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ اس شدید جھڑپ میں کم از کم تین سیکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

اس سے قبل چند ماہ پہلے بنگلہ دیشی حکام نے دو افراد کو گرفتار کیا تھا جو شدت پسند گروہوں کے لیے افراد کو تیار اور بھرتی کرنے میں ملوث تھے۔

Related Posts