متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کو لندن کے ایک اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ ایک ماہ کے دوران یہ ان کا دوسرا اسپتال میں داخلہ تھا جیسا کہ پارٹی کے ایک رہنما نے بتایا۔
الطاف حسین کو گزشتہ ماہ 10 جولائی کو شدید علیل ہونے کے باعث لندن کے ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ متعدد ٹیسٹوں اور خون کی منتقلی کے بعد انہیں 23 جولائی کو ڈسچارج کیا گیا تھا۔
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ عزیز آبادی نے ایکس پر بتایا کہ الطاف حسین کو آج صبح 12:30 بجے GMT (پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5:30) ایمرجنسی وارڈ میں نو گھنٹے علاج اور مختلف ٹیسٹوں کے بعد اسپتال سے رخصت کیا گیا۔
مصطفیٰ عزیز آبادی نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے الطاف حسین کو شدید فلو اور سینے کے انفیکشن کی تشخیص کی۔ ڈاکٹروں نے ان کے لیے اینٹی بائیوٹکس اور دیگر ادویات تجویز کیں اور مکمل آرام کا مشورہ دیا۔
بریکنگ : ایم کیوایم کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کو لندن کے مقامی اسپتال میں 9 گھنٹے ایمرجنسی وارڈ میں زیرعلاج رکھنے اور مختلف ٹیسٹ کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے۔ #GetWellSoonAltafBhai
جناب الطاف حسین کو طبیعت خراب ہونے پر جمعہ 8 اگست 2025 کی سہ پہر مقامی اسپتال لے جایا گیا تھا… pic.twitter.com/XH4BucPxkC— Mustafa Azizabadi (@azizabadi) August 9, 2025
الطاف حسین کے اسپتال میں قیام کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے عزیز آبادی نے کہا کہ ان کے خون کے ٹیسٹ، ای سی جی، سینے کا ایکسرے اور آکسیجن لیول کی نگرانی کی گئی۔
عزیز آبادی نے مزید کہا کہ الطاف حسین نے اپنی بیماری کے دوران ان کی صحتیابی کیلئے دعائیں کرنے والے تمام کارکنوں اور عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔
واضح رہے کہ الطاف حسین فروری 2021 میں کووڈ-19 کا شکار ہونے کے بعد برطانیہ کے ایک اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں بھی زیر علاج رہ چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








