امریکہ ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے، اور ہزاروں امریکی فوجی اور میرینز مشرق وسطیٰ پہنچ رہے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہو سکتا ہے جو صدر ٹرمپ کی جانب سے کشیدگی بڑھانے پر جنگ کو ایک نئے اور خطرناک دور میں بدل دے۔ اس دوران فوجیوں کو ڈرونز، میزائل اور دھماکہ خیز مواد کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی اہلکاروں کے مطابق پینٹاگون ایران میں ہفتوں تک زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے کیونکہ ہزاروں امریکی فوجی اور میرینز مشرق وسطیٰ میں پہنچ رہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ منصوبے جنگ کے نئے مرحلے کی نشاندہی کر سکتے ہیں جو امریکی فوج کے لیے پہلے چار ہفتوں کی لڑائی کے مقابلے میں کافی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جیسا کہ
امریکی اہلکاروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ کسی بھی زمینی مشن میں مکمل جنگی حملہ شامل نہیں ہوگا بلکہ یہ خصوصی آپریشنز کی فورسز اور روایتی انفنٹری کے چھاپوں تک محدود ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں فوجیوں کو ڈرونز، میزائل، زمینی فائر اور خود ساختہ دھماکہ خیز مواد کے خطرات کے سامنے لا سکتی ہیں۔
ہزاروں امریکی فوجی اور میرینز مشرق وسطیٰ پہنچ رہے ہیں اور یہ نئے مرحلے کی جنگ کے دوران خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں جن میں ایرانی ڈرونز، میزائل، زمینی فائر اور خود ساختہ دھماکہ خیز مواد شامل ہیں۔
ممکنہ اہداف میں خلیج فارس میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارک جزیرہ پر قبضہ اور ہرمز کے تنگ راستے کے قریب ساحلی علاقوں میں چھاپے شامل ہو سکتے ہیں تاکہ ایسے ہتھیار تباہ کیے جا سکیں جو تجارتی اور عسکری جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ایک اہلکار کے مطابق ان کارروائیوں کے لیے وقت کا تخمینہ کچھ مہینے ہو سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہاکہ پینٹاگون کا کام یہ ہے کہ صدر کو زیادہ سے زیادہ اختیارات فراہم کرنے کے لیے تیاری کرے
صدر ٹرمپ نے کہا ہے میں فوجیوں کو کہیں بھی نہیں بھیج رہاجبکہ سٹیٹ سیکرٹری مارکو روبیو نے کہا ہے کہ یہ طویل عرصے تک جاری رہنے والا تنازعہ نہیں ہوگا اور مقاصد زمینی فوج کے بغیر بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
علاقائی کشیدگی اس وقت سے جاری ہے جب اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف حملہ شروع کیا جس میں اب تک 1,300 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں سابقہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔
ایران نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے کیے جس سے جانی نقصان، انفراسٹرکچر کو نقصان اور عالمی مارکیٹ و فضائی نقل و حمل میں خلل پیدا ہوا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








