کام کے نہ کاج کے، دشمن اناج کے؟ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کے 12 ہزار بھارتی ملازم فارغ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل نے بھارت میں تقریباً 12,000 ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ چند ہفتوں کے اندر ایک اور مرحلہ بھی سامنے آئے گا۔

اطلاعات کے مطابق یہ رائٹ سائزنگ کمپنی کی عالمی سطح پر تقریباً 30,000 ملازمتوں میں کمی کے پروگرام کا حصہ ہیں۔ یہ اقدامات بھارت میں آئی ٹی سروسز کے شعبے میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ترقی کے بعد اب سست روی کے اثرات کے نتیجے میں کیے جا رہے ہیں۔

اوریکل جو کہ ایک امریکی ملٹی نیشنل ٹیکنالوجی کمپنی ہے اور اس کا ہیڈ کوارٹر آسٹن، ٹیکساس میں واقع ہے نے عالمی سطح پر تقریباً 30,000 ملازمین کو فارغ کر دیا ہے۔

ملازمین کے مطابق کمپنی نے انہیں براہِ راست ای میل کے ذریعے مطلع کیا کہ ان کے عہدے ختم کر دیے گئے ہیں اور نوکری سے برخاستگی فوری طور پر نافذ ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق بھارت میں ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ کام کرنے والے ہر ملازم کو 15 دن کی تنخواہ فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انہیں ایک ماہ کی غیر ادا شدہ تنخواہ، جمع شدہ چھٹیوں کی رقم، واجب الادا گراچویٹی اور ایک ماہ کے نوٹس پیریڈ کی تنخواہ بھی دی جائے گی۔ کمپنی نے اضافی طور پر دو ماہ کی تنخواہ بطور ٹاپ اپ کی پیشکش بھی کی ہے تاہم یہ تمام فوائد صرف ان ملازمین کے لیے دستیاب ہوں گے جو رضاکارانہ اور دوستانہ طور پر نوکری چھوڑنے کا انتخاب کریں۔

Related Posts