امریکا نے سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کیلئے پیش کردہ تیسری قرارداد بھی انتہائی سفاکی اور ڈھٹائی کے ساتھ ویٹو کردی۔
سلامتی کونسل میں غزہ جنگ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کی قرار داد الجزائر کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ امریکہ نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ اس قرارداد کی منظوری کو روکے گا۔
سلامتی کونسل کے پندرہ ارکان میں سے تیرہ نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور برطانیہ نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ یہ تیسرا موقع ہے جب امریکہ نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ویٹو کیا ہے جن میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
6 سلامتی کونسل کو عالمی عدالت انصاف کی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے الجزائر نے جنگ بندی کے لیے ایک نئی قرارداد کا مسودہ تیار کر کے کونسل میں پیش کیا تھا۔
الجزائر سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔ اطلاعات کے مطابق قرارداد کے مسودے میں “فلسطینی شہریوں کی جبری بے گھری” کی مذمت کی گئی تھی۔ مسودے میں “بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں اور تمام یرغمالیوں کی رہائی” کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔
یہ مسودہ قرارداد اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے جنوبی غزہ میں رفح پر زمینی حملے سے قبل فلسطینیوں کی بے دخلی کے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس وقت ایک اندازے کے مطابق تقریباً ڈیڑھ ملین افراد، یعنی غزہ کی پٹی کی نصف سے زیادہ آبادی رفح شہر میں پناہ لیے ہوئے ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








