ہالی ووڈ کی مشہور اداکارہ انجلینا جولی نے فلم “ماریا” کے سیٹ پر اپنے بچوں کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے اپنی فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں، انجلینا جولی نے ان جذباتی مناظر کے بارے میں بتایا جو فلم “ماریا” کے دوران ان کے بیٹوں میڈوکس اور پیکس نے دیکھے، جو پروڈکشن اسسٹنٹس کے طور پر کام کر رہے تھے۔
انجلینا نے کہا، “میرے بچوں نے مجھے بہت سی چیزوں سے گزرتے دیکھا ہے لیکن انہوں نے کبھی مجھے وہ درد ظاہر کرتے نہیں دیکھا جو عام طور پر والدین اپنے بچوں سے چھپاتا ہے۔”
اداکارہ نے کہا کہ اس جذباتی تجربے نے انہیں اپنے بچوں کے ساتھ اپنے احساسات کے بارے میں دیانت داری کے ایک نئے انداز سے روشناس کرایا۔
پابلو لارین کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم “ماریا” کے لیے انجلینا جولی کو سات ماہ کی سخت اوپرا ٹریننگ کرنی پڑی۔
انہوں نے کہا، “جب اوپرا کلاسز شروع ہوئیں تو اس کے لیے سانس اور جسم کی محنت اور جو قوت آپ کو اپنے اندر سے نکالنی پڑتی ہے، وہ بالکل مختلف جسمانی تجربہ تھا۔”
اسی لئے شادی نہیں کرتیں! ریکھا لیسبین نکلیں، کونسی خاتون کیساتھ جنسی تعلقات؟ اہم انکشافات
دوسری جانب لارین نے فلم “ماریا” کے سیٹ پر میڈوکس اور پیکس کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی جبکہ انجلینا نے بتایا کہ پیکس نے ان کی ابتدائی آواز کی مشقیں ریکارڈ کیں۔
انہوں نے کہا، “یہ ہمیشہ اچھا ہوتا ہے کہ آپ کے بچے اپنی ماں کو کوئی کام آسانی سے کرتے نہ دیکھیں، بلکہ محنت کرتے، جدوجہد کرتے اور بار بار کوشش کرتے ہوئے دیکھیں۔”
یہ فلم پیرس میں ماریا کالاس کی آخری زندگی کے دنوں کو بیان کرتی ہے، جب وہ اینٹی اینزائٹی دوائیوں کی عادی تھیں۔فلم میں ان کی ماضی کی کامیابیوں اور ناکامیوں کو یاد کیا گیا ہے، جب ان کی حیرت انگیز آواز نے دنیا بھر کے ناظرین کو متاثر کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








