کراچی کے علاقے قائد آباد سے گرفتار ہونے والی منشیات فروش خاتون نرگس کے بارے میں تفتیش کے دوران اہم حقائق سامنے آگئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمہ مبینہ طور پر اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ مل کرمنشیات کا خاندانی نیٹ ورک چلا رہی تھی۔ خاتون کا شوہر سابق پولیس افسر نکلا۔
ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ نرگس کا شوہر وکیل خان سابق پولیس اہلکار ہے جو ریٹائرمنٹ لے چکا ہے، اور وہ اس سے قبل بھی منشیات سے متعلق ایک مقدمے میں گرفتار ہو چکا تھا۔ تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان کا بیٹا طاہر خان بھی اس مبینہ نیٹ ورک میں فعال طور پر شریک رہا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق والدین اور بیٹے پر مشتمل یہ گروہ کراچی کے مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کا کام کرتا تھا اور یہ نیٹ ورک صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں تھا بلکہ پوش مقامات اور جیلوں میں بھی منشیات کی ترسیل کی جاتی رہی۔
رپورٹس کے مطابق تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ طاہر خان کے جیل عملے کے بعض اہلکاروں سے روابط تھے، اور انہی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر جیل کے اندر منشیات پہنچائی جاتی تھی۔
تحقیقات سے پتہ چلا کہ فضل ولی نامی شخص کوئٹہ سے اس گروہ کو منشیات فراہم کرتا تھا۔ منشیات کراچی منتقل کرنے کے بعد پہلے گھر میں چھپائی جاتی اور پھر شہر کے مختلف حصوں میں سپلائی کر دی جاتی تھی۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے ضلع ملیر میں مبینہ طور پر 3 مکانات حاصل کر رکھے تھے، جہاں سے نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو چلایا جاتا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کیس میں شامل دیگر افراد اور ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق مزید تفتیش میں مصروف ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








