بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک نیا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیسری اولاد کی پیدائش پر والدین کو 30 ہزار روپے جبکہ چوتھی اولاد پر 40 ہزار روپے نقد دیے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مالی امداد بچے کی پیدائش کے فوراً بعد والدین کو فراہم کی جائے گی تاکہ خاندانوں کو براہ راست سہولت مل سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب وہ خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسیوں کے حامی تھے تاہم اب صورتحال بدل چکی ہے اور بچوں کی پیدائش کو قومی اثاثہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں بچوں کی تعداد میں کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جلد ہی چلڈرن آر ویلتھ کے نام سے ایک خصوصی منصوبہ شروع کرے گی جس کا مقصد شرح پیدائش میں کمی کو روکنا ہوگا۔
چندرابابو نائیڈو نے خبردار کیا کہ دنیا کے کئی ممالک میں شرح پیدائش میں کمی اور عمر رسیدہ آبادی میں اضافہ معیشت پر منفی اثرات ڈال رہا ہے اس لیے آبادی کے توازن کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پہلے حکومت نے خاندانی منصوبہ بندی پر زور دیا تھا، لیکن بدلتے حالات میں اب پالیسیوں کو اس طرح ڈھالنا ہوگا کہ بچوں کو ملک کی دولت سمجھا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پاپولیشن مینجمنٹ پالیسی کے تحت شرح پیدائش بڑھانے کے اقدامات کرے گی جبکہ آنگن واڑی مراکز کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ ماں اور بچے کو غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کی جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ تالی کی وندنام اسکیم کے تحت پہلے ہی ماؤں کو 15 ہزار روپے کی مالی امداد دی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








