پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا کے بیرسٹر گوہر سے متعلق بیان کے بعد پی ٹی آئی میں اختلافات سامنے آگئے، پی ٹی آئی کے واٹس ایپ گروپس میں سلمان اکرم راجا پر تنقید کی گئی۔
نجی چینل ایکسپریس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پارٹی ارکان نے الزام عائد کیا ہے کہ سلمان اکرم راجا نے پارٹی کو اس نہج پر پہنچایا وہ پارٹی میں گروپنگ کر رہے ہیں، نئی سیاسی کمیٹی میں سینٹرز کی نمائندگی نہیں ہے، علی ظفر کی جگہ سینیٹر فوزیہ ارشد کو نمائندگی دی گئی، ہم اس پولیٹیکل کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں۔
سینیٹرز نے کہا ہے کہ بانی چئیرمین عمران خان نے بیرسٹر گوہر کو چئیرمین لگایا ہے، سلمان اکرم راجا کو یہ بیان نہیں دینا چاہیے تھا، بیرسٹر گوہر کے ساتھ خان کی فیملی کے سامنے نامناسب رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
اراکین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی کور کیمٹی کی میٹنگ نہیں و رہی، پانچ ماہ پہلے کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تھی، نئی سیاسی کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں بھی محمود خان اچکزئی ، بیرسٹر گوہر سمیت متعدد اراکین نے شرکت نہیں کی تھی، اس کے بعد سیاسی کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں ہوا۔
ذرائع کے مطابق اراکین نے کہا کہ پارٹی کے سینئیر رہنماؤں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، بیرسٹر گوہر کی جانب سے ہمیں چپ رہنے کی ہدایت ہے، سلمان اکرم راجہ بانی چئیرمین کے ٹویٹس کو بھی ری ٹویٹ نہیں کرتے، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر بھی سیکرٹری جنرل نے رد عمل دینے سے انکار کر دیا تھا اس کا رد عمل بھی سہیل آفریدی، شیخ وقاص اکرم، شفیع جان اور مشعال یوسفزئی کو دینا پڑا، سلمان اکرام راجہ اپنے حساب سے پارٹی چلا رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








