معروف خاتون وکیل اور حقوقِ انسانی کی کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو طلب کرنے کی درخواست دائر کردی۔
اسلام آباد کی عدالت میں دائر درخواست میں انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ ان کے خلاف زیر سماعت کیس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو بطور گواہ طلب کیا جائے۔ یہ کیس ان کے سوشل میڈیا پوسٹس کے حوالے سے درج کیا گیا تھا، جو حالیہ پریس بریفنگ کے بعد سامنے آئے، جس میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے انہیں “غداروں کی وکیل” اور “غیر ملکی ایجنٹ” قرار دیا تھا۔
ضلعی و سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کہا کہ “استغاثہ پر کسی بھی گواہ کو پیش کرنے کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا”۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (PECA) کے تحت کیس دوبارہ ترتیب دیا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تفریق کو ہوا دی۔
بدھ کے روز دونوں نے ایڈیشنل ضلعی و سیشن جج محمد افضل مجوکہ کے سامنے کیس کی سماعت کے دوران تحریری درخواست پیش کی، جس میں انہوں نے 6 جنوری کو ہونے والی فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پریس کانفرنس کے دوران فوجی ترجمان کے بیانات عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے اور جاری کیس میں تعصب پیدا کرنے کی کوشش تھی۔
درخواست میں استدلال کیا گیا کہ چونکہ یہ بیانات اس وقت دیے گئے جب کیس زیر سماعت ہے، اس لیے یہ آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت مؤکلہ کے منصفانہ سماعت کے حق کی خلاف ورزی ہے اور عدالتی عمل میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں۔
درخواست میں بتایا گیا کہ پریس بریفنگ “تمام قومی میڈیا پر نشر کی گئی” اور آن لائن بھی آسانی سے دستیاب ہے۔ کانفرنس کے دوران “ایسی باتوں کا حوالہ دیا گیا جو براہِ راست معزز عدالت کے سامنے زیر التوا تھیں”۔
بعد ازاں عدالت نے کہا کہ درخواست پر فیصلہ اس کے بعد دیا جائے گا جب ملزمان کے بیانات سیکشن 342 کے تحت ریکارڈ کر لیے جائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








