سندھ میں ظلم و بربریت کی ایک اور داستان! طاقتور وڈیرے کا ماچھی برادری کے گھروں پر قبضہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

سندھ کے دور دراز ضلع عمرکوٹ میں ماچھی برادری (سولنگی برادری) کے ساتھ مبینہ پولیس زیادتی اور جبری بے دخلی کا واقعہ سامنے آیا ہے جس پر مقامی سطح پر شدید ردعمل اور احتجاج جاری ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق اراضی کے تنازع کے دوران پولیس نے سولنگی برادری کے گھروں میں داخل ہو کر خواتین اور کم عمر بچیوں کو گھسیٹ کر باہر نکالا۔ متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے دوران چادر اور چار دیواری کی حرمت پامال کی گئی جس سے برادری کے افراد میں شدید خوف اور بے چینی پھیل گئی۔

صحافی کی گرفتاری اور مظاہرے

اس واقعے کی کوریج کرنے والے مقامی صحافی دلبر ڀيو کو بھی گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد برادری کے خواتین اور نوجوان پریس کلب کے باہر احتجاج پر بیٹھ گئے ہیں۔ متاثرہ خواتین کھلے آسمان تلے مظاہرہ کر رہی ہیں جبکہ نوجوان بھی برادری کے حق میں دھرنے میں شریک ہیں۔

سولنگی برادری کے نمائندوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس کارروائی کی شفاف تحقیقات کی جائیں، گرفتار صحافی کو رہا کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کے حقوق کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

احتجاج کے پیچھے پس منظر

ماچھی برادری کے مطابق بااثر افراد نے طاقت کے زور پر انہیں تقریباً صدی پرانی اپنی جائیدادوں سے بے دخل کر دیا جس سے برادری میں شدید صدمہ اور غصہ پایا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے اندرون سندھ میں انسانی حقوق اور مقامی برادریوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک سنگین مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔

مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ شہریوں اور برادریوں کا اعتماد بحال ہو اور مزید زیادتیوں اور بے دخلیوں سے بچا جا سکے۔

Related Posts