گھوٹکی: کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف سندھ حکومت نے کارروائیاں تیز کردی ہیں، محکمۂ انسدادِ بدعنوانی (اینٹی کرپشن) نے ایکشن لیتے ہوئے محکمۂ تعلیم کے 2 افسران کو جعلی بھرتیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر برائے انسدادِ بدعنوانی جام اکرام اللہ دھاریجو کی ہدایت پر محکمۂ انسدادِ بدعنوانی نے جعلی بھرتیوں میں ملوث محکمۂ تعلیم کے 2 افسران کو گھوٹکی سے گرفتار کر لیا۔
اینٹی کرپشن گھوٹکی سرکل کی ایک ٹیم نے انسپکٹر ایاز میمن کی سربراہی میں کارروائی کرتے ہوئے جعلی بھرتیوں اور سرکاری ریکارڈ میں ہیر پھیر میں ملوث تعلقہ اباڑو کے ایجوکیشن افسر اللہ بچایو قاضی گریڈ 18 اور سابقہ تعلقہ ایجوکیشن افسر اللہ ورایو چاچڑ کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
تیسرا ملزم اختر حسین دھاندو مفرور بتایا جاتا ہے۔ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کئی سال سے جعلی اسناد و دستاویزات تیار کر کے محکمۂ تعلیم سندھ میں سرکاری ملازمت دلوا کر مبینہ لاکھوں روپے وصول کر چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملزمان کے پاس جعلی سرکاری مہریں اور لیٹر پیڈ بھی موجود ہیں، جبکہ یہ اعلیٰ حکام کے جعلی دستخط بھی کر تے تھے۔
دریں اثنا صوبائی وزیر برائے اینٹی کرپشن، صنعت وتجارت اور محکمہ امدادِ باہمی جام اکرام اللہ دھاریجو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔
جام اکرام اللہ دھاریجو کے مطابق سندھ میں کرپشن سے متعلق شکایات پر فوری ایکشن لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کرپشن میں ملوث افراد کو خبردار کیا کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں اور اپنے فرائض ایمان داری سے انجام دیں بصورتِ دیگر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔