ایران کے جنوب مغربی شہر لُردگان میں مہنگائی کے خلاف حکومت مخالف احتجاج پُرتشدد مظاہرے میں تبدیل ہوگیا جس میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپوں میں کم از کم 2 مظاہرین مارے گئے۔
ایرانی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے گورنر آفس، مسجد، ٹاؤن ہال اور بینکوں پر پتھراؤ کیا جنھیں پولیس نے آنسو گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے منشتر کرنے کی کوشش کی۔
خیال رہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ ہوشربا مہنگائی کے خلاف احتجاج میں عام شہریوں کی موت ہوئی ہو جبکہ 10 سے زائد شدید زخمی بھی ہیں۔
زخمیوں میں سے دو حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ 50 سے زائد مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔
علاوہ ازیں لُرستان کے صوبے میں بسیج نامی رضا کار فورس کا ایک 21 سالہ رکن بھی ہلاک ہوا۔
یاد رہے کہ عوامی احتجاج اتوار کو دارالحکومت تہران سے شروع ہوا تھا جہاں دکانداروں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور شدید مہنگائی کے خلاف ہڑتال اور مظاہرے کیے۔
ایران کی کرنسی اس سال کئی گنا کمزور ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے خوراک، ادویات اور توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔
یہ مظاہرے اب ملک کے مختلف شہروں میں پھیل چکے ہیں اور زیادہ تر ان کا محور معاشی مشکلات، بے روزگاری، کم ہوتی خریداری قوت اور حکومت کے معاشی فیصلوں کے خلاف عوامی ناراضگی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








