سالِ نو اور تیسری عالمی جنگ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

دنیا بھر میں 31دسمبر کی شب کو حسب روایت نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہوئے شاندار آتش بازی ہوئی ، جس میں پاکستانی قوم بھی کسی سے پیچھے نہیں رہی اور سالِ نو کی آمد پر خوب جشن منایا گیا اور کیوں نہ منایا جائے، کیونکہ  سال 2025 میں پاکستان پر بھونچال بپا کرکے آپریشن سندورکے نام سے  جنگ مسلط کی گئی تھی اور پھر  چشم فلک نے وہ نظارہ دیکھا جس کی کسی کو کوئی امید بھی نہ تھی۔

پاکستان کے خلاف  معرکہ حق میں بھارت کو خوفناک شکست کا سامنا کرنا پڑا جو نہ صرف سال 2025 کے آخر تک یاد رکھا گیا بلکہ اسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جس کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی نے نئی اڑان بھری اور ہمارے سفارتی تشخص میں اضافہ ہوا جو ہماری خارجہ پالیسی کی اڑان کو آگے لے گیا جس میں ایک اہم کردار پاکستان کی روایتی اور عسکری ڈپلومیسی کا بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا جبکہ نئے سال میں امید یہ ہے کہ پاکستان اپنی کامیابیوں کو مزید آگے بڑھائے گا اور توقع کی  جاسکتی ہے کہ سال نو میں پاکستان معاشی لحاظ سے اس خارجہ پالیسی کا کماحقہ فائدہ اٹھا سکے۔

معاشی اعتبار سے پاکستان کو سنگین مسائل کا سامنا ہے جہاں متوسط طبقے کیلئے زندگی کی ضروری اشیا کی دستیابی  بھی کسی چیلنج سے کم نہیں تاہم ایک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملکی جی ڈی پی میں 3.71فیصد کا اضافہ ہوا۔  وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق صنعتی شعبے میں 9اعشاریہ 38فیصد شاندار شرحِ نمو ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کی 0.12فیصد ترقی کے مقابلے میں معاشی عروج کی علامت قرار دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملک کی مستحکم معیشت اور متوازن شرح نمو پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کیلئے مزید پرکشش بنا سکتی ہے۔ تاہم ایک اور رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 میں ایف بی آر کو 21ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے۔ ٹیکس وصولی کا ہدف 1ہزار446ارب تھا جس کے مقابلے میں خالص ٹیکس وصولی 1ہزار425ارب روپے ہوئی۔ تاہم وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق مالی نظم و ضبط کے باعث رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں مالیاتی سرپلس حاصل ہوا جو گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد دوسرا سرپلس ہے جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

بتایا گیا کہ ٹیکس وصولیوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے اور مالی سال 25-2024 میں ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.2 فیصد تک پہنچ گیا جو گزشتہ 25 برسوں میں بلند ترین سطح ہے جبکہ مالی سال24-2023 میں یہ شرح 8.8 فیصد تھی۔

شعبہ صحت میں جب بھی پولیو کا ذکر کیا جاتا ہے تو پاکستان کا نام افغانستان کے ساتھ لیا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ دو ہی ممالک ہیں جہاں بدقسمتی سے پولیو جیسی بچوں کو معذور کردینے والی بیماری تاحال ختم نہیں ہوسکی، تاہم سال 2025 میں انسدادِ پولیو کی 6مہمات کامیابی سے مکمل ہوئیں اور 98فیصد سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلوائے گئے۔ سال 2024 میں پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد 74 تھی جو اب 30رہ گئی ہے اور حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ ستمبر 2025 کے بعد سے ملک بھر میں پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر تنازعات میں اضافہ تشویشناک رہا ہے، جہاں یوکرین روس جنگ کی صورت میں امریکا اور روس جیسی عالمی طاقتیں بالواسطہ طور پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئیں۔ 2022 سے جاری اس جنگ میں بھاری جانی نقصان ہوا اور آج جنوری 2026 تک یہ تنازع جاری ہے جہاں یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امن معاہدہ 90 فیصد تیار ہے، مگر روس یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتا ہے۔ اگر یورپی یونین یا امریکا کھل کر روس کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو تیسری عالمی جنگ نہیں رک سکے گی، تاہم تمام نیوکلیئر طاقتیں جانتی ہیں کہ جوہری جنگ شروع ہونے کی صورت میں جیتے جاگتے انسانوں کی یہ دنیا دیکھتے ہی دیکھتے لاشوں کے ڈھیر میں بدل جائے گی اور دفن کرنے والا بھی شاید ہی کوئی بچ سکے۔ اسی طرح غزہ میں اسرائیل حماس تنازع 2026 میں بھی جاری ہے، جہاں اسرائیل نے متعدد امدادی گروپس کی سرگرمیاں معطل کردی ہیں، جس سے انسانی بحران مزید شدید ہوگیاہے  جبکہ تیسری عالمی جنگ کے یہ خدشات پاکستان کے حوالے سے بھی محسوس کیے جاتے رہے ہیں، جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد بار ذکر کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت نیوکلیئر طاقت کا استعمال کرسکتے تھے اور اگر ایسا ہوتا تو جوہری تباہی کی راکھ لاس اینجلس کو بھی جلا سکتی تھی۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پذیرائی بھی کی کہ انہوں نے 2025 کے تنازع کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح امریکا اور چین کے درمیان تناؤ بھی 2026 میں بڑھ رہا ہے، خاص طور پر تائیوان اور جنوبی چین سمندر پر، جہاں چین نے دسمبر 2025 میں بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کیں، اور ماہرین کے مطابق 2026 میں یہ تنازع مزید شدت اختیار کرسکتا ہے، جو عالمی معیشت اور امن کو متاثر کرے گا۔

یہاں بات کی جائے عالمی تنازعات اور جنگوں کی تو بلاشبہ بین الاقوامی تنازعات کا نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی ختم ہوجانا کوئی ایسی امید نہیں کہی جاسکتی جو بہت آسانی سے پوری ہوسکے، بلکہ اس کیلئے طویل جدوجہد ،ڈپلومیسی اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر دونوں فریقین کی ایک دوسرے سے بات چیت اور صبر و تحمل کے ساتھ افہام و تفہیم کی ضرورت پیش آئے گی، تاہم سال 2026 کے حوالے سے ایک مثبت اور حوصلہ افزا امید یہ کی جاسکتی ہے کہ یہ سال عالمی تنازعات کو ختم کرنے کا سال ثابت ہوسکے جس میں روس یوکرین جنگ ،غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور پھر مسئلہ کشمیر سر فہرست ہوں گے۔

غزہ کا معاملہ حل کی جانب جارہا ہے، لیکن اسرائیل کی ہٹ دھرمی سے اگر یہ معاملہ حل نہ ہوا تو دنیا میں عدم استحکام اور دہشت گردی بڑھے گی، جسے عالمی امن و استحکام کیلئے کوئی اچھی امید قرار نہیں دیاجاسکتا۔ ضروری ہے کہ عالمی قیادت جنگوں میں اپنی افرادی قوت اور سرمایہ جھونکنے کی بجائے مذاکرات کی جانب آئے اور عالم انسانیت کو جنگوں سے نجات دلاتے ہوئے معاشی استحکام کی راہ ہموار کی جائے۔

Related Posts