قدرتی آفت کے بعد بھی بے حسی حاوی؛ تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کے ملبہ چوری کرتے دو افراد گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

مہمند ایجنسی میں خیبر پختونخوا حکومت کے تباہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے ملبے سے سامان چرانے کی کوشش میں دو افراد کو پولیس نے رنگے ہاتھوں دھر لیا۔ ملزمان اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ حادثے کے مقام سے قیمتی اشیا چوری کرنے میں مصروف تھے۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کردی ہے۔

یہ ہیلی کاپٹر جو خیبر پختونخوا حکومت کی ملکیت تھا، 15 اگست کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے بعد واپسی کے دوران گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس دلخراش سانحے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام پانچ افراد جن میں دو پائلٹ بھی شامل تھے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تحقیقات کے دوران ہیلی کاپٹر کا بلیک باکس مل چکا ہے جوکہ حادثے کی جگہ سے تقریباً 100 میٹر دور جا گرا تھا۔ پولیس نے اسے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور (نارتھ) خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اپنی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں بونیر، شنگلہ، سوات، مانسہرہ، بٹگرام اور باجوڑ شامل ہیں۔

انجینئر کور کی شہری تلاش اور بچاؤ ٹیمیں خصوصی آلات کے ساتھ ملبے تلے پھنسے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ، تباہ شدہ پلوں کی بحالی اور بند شدہ راستوں کو کھولنے کے لیے بھی کام جاری ہے۔

خراب موسم کے باوجود فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دور دراز علاقوں میں راشن پہنچایا جا رہا ہے اور زخمیوں، خواتین اور بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں طبی کیمپ قائم کیے ہیں جہاں سینکڑوں مریضوں کو مفت ادویات اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

فوجی ٹیمیں بونیر، شنگلہ اور سوات کے دیہات چوراک، بشنوئی، گوکند، آلوچ اور چکے سر میں مسلسل فعال ہیں۔ باجوڑ میں، جار پل کی بحالی جو ضلع کو دیر سے ملاتی ہے اور ایک نئے پل کی تنصیب کا کام تیزی سے جاری ہے تاکہ مواصلاتی راستوں کو دوبارہ کھولا جا سکے۔

Related Posts