صرف 24 گھنٹے میں ایپ کریش! سندھ کا پیپلز پیٹرول سبسڈی پروگرام مشکلات کا شکار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

پاکستان میں بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں کے پیش نظر سندھ حکومت نے موٹرسائیکل سواروں کے لیے ایک اہم سہولت پیپلز موٹر سائیکل پیٹرول سبسڈی پروگرام متعارف کروائی جس کے تحت ہر موٹرسائیکل سوار کو 2,000 روپے کی ایک مرتبہ کی ریلیف ملنی تھی لیکن شروعات کے صرف 24 گھنٹے میں ہی یہ پروگرام ڈیجیٹل کریش کا شکار ہو گیا۔

سندھ حکومت کا سرکاری پورٹل سیکڑوں ہزاروں درخواست گزاروں کے دباؤ کو برداشت نہ کر سکا جس کے نتیجے میں شہریوں کو صرف سرور ٹائم آؤٹ کے پیغامات نظر آئے اور عوام میں شدید مایوسی پیدا ہو گئی۔

یہ پروگرام ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے شروع کیا گیا تھا تاکہ موٹرسائیکل سواروں کو ایک مرتبہ کے لیے 2,000 روپے کی ریلیف فراہم کی جا سکے لیکن 6 اپریل کو پورٹل مکمل طور پر کریش کر گیا۔

حکومت اس اقدام کو بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں کے خلاف ایک سہارا قرار دیتی ہے جو اس وقت فی لیٹر 378 روپے سے زیادہ ہو گئی ہے تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ بہت سے صارفین کو صرف سرور ٹائم آؤٹ کے ایرر پیغامات دیکھنے کو ملے جبکہ یہ کریش ناقدین کے لیے حیران کن نہیں ہے کیونکہ یہ پروگرام صوبے میں تقریباً 6.7 ملین رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں کو ہدف بناتا ہے۔

سوشل میڈیا پیر کے روز رجسٹریشن کے ناکام ہونے کے اسکرین شاٹس سے بھر گیا۔ کراچی کے ایک ڈیلیوری رائیڈر نے شکایت کی کہ یہ سب ایک ظالمانہ مذاق لگتا ہے کیونکہ پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر ہیں اور ریاستی انفراسٹرکچر ریلیف دینے کے وقت ٹریفک کو ہینڈل نہیں کر پا رہا۔

رجسٹریشن کے لیے پورٹل واحد سرکاری چینل کے طور پر موجود ہے۔ سائٹ پر کوئی باقاعدہ مینٹیننس نوٹس یا ڈاؤن ٹائم الرٹ جاری نہیں کیا گیا جس سے صارفین یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ مسئلہ ان کے انٹرنیٹ کنیکشن کا ہے یا حکومت کے سرور کی صلاحیت کا جبکہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا عنصر وعدہ کی گئی موبائل ایپ کی غیر موجودگی ہے۔

Related Posts