عراقچی کا سخت ردعمل؛ امریکی حملے کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑیں گے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکی بی ٹو بمبار طیاروں کی جانب سے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان پر حملے کے بعد ایران نے عالمی برادری کو متوجہ کرنے والا سخت اور دو ٹوک ردعمل جاری کر دیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا کا یہ حملہ نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی روح کے بھی منافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج صبح جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک، قابل مذمت اور دنیا کے امن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور عوام کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس غیرقانونی، خطرناک اور مجرمانہ اقدام پر فوری ردعمل دے، ورنہ اس کی دیرپا اور سنگین قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے چند گھنٹے قبل ہی جوہری تنصیبات کو خالی کرا لیا گیا تھا، جس کے باعث ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکا تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ پرامن ایٹمی پروگرام کے خلاف عالمی سازش کا تسلسل ہے۔

Related Posts