انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کے سربراہ حماد علی منصور کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری مارکیٹ بنگلہ دیش، ایتھوپیا اور سری لنکا کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ میڈ اِن پاکستان گاڑیوں کو عالمی منڈی میں متعارف کروائی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی کار ساز کمپنیوں اور اسپیئر پارٹس بنانے والے اداروں کو برآمدات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے اور عالمی مارکیٹ سے آرڈرز حاصل کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی مضبوط بنانی ہوگی۔
تقریب میں ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر نے بتایا کہ اِس سال پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں میڈ اِن پاکستان کی پالیسی اپنا کر واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ان کے مطابق یہ فارمولا ملکی معیشت، روزگار اور ٹیکس نیٹ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی اور مستقل صنعتی پالیسی کے بغیر آٹو سیکٹر مستحکم نہیں ہو سکتا۔
اس موقع پر پاک آٹو پارٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAAPAM) کے سینئر نائب چیئرمین شہریار قادر نے بتایا کہ اس سال شو میں 172 سے زائد پاکستانی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے شرکت کی ہے، جن میں چین، کوریا، سنگاپور اور ایران کے پارٹنرز بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرونی کمپنیوں کی شمولیت نہ صرف نمائش کو مضبوط بناتی ہے بلکہ پاکستان کے عالمی صنعتی روابط کو بھی بہتر کرتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








