پولیس افسر قانون سے بالاتر ہیں؟ گود میں بچہ، آنکھوں میں آنسو! دیکھیں ڈی پی او ڈی جی خان کی سابق اہلیہ کی لرزا دینے والی ویڈیو

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

پنجاب کے جنوبی شہر ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) صادق حسین بلوچ کی سابق اہلیہ عائشہ نے ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو جاری کی ہے جس میں انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے براہ راست مدد طلب کی ہے۔

ویڈیو میں وہ اپنے ایک سالہ بیٹے کو گود میں لیے روتے ہوئے الزام لگا رہی ہیں کہ ڈی پی او صادق حسین بلوچ انھیں اور ان کے بیٹے کو قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور چاقو سے ذبح کرنے کی بات کرتے ہیں۔

ویڈیو جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر صحافی اسرار راجپوت کی جانب سے شیئر کی گئی ہے تقریباً 3 منٹ لمبی ہے جس میں عائشہ صادق بلوچ کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو میری سی ایم پنجاب کے لیے ہے۔ آپ خواتین کی حفاظت کی بات کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ پاکستان کی تمام لڑکیاں ہماری پہلی ترجیح ہیں۔

عائشہ نے کہا کہ مجھے اور میرے اس ایک سالہ بیٹے کو جان کا خطرہ ہے۔ ڈی پی او صادق حسین بلوچ مجھے اور بیٹے کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس دوران انہوں نے ڈی پی او کی مبینہ آڈیو پیغام بھی سنایا جس میں کہا جا رہا ہے کہ میں تمہیں اور بیٹے کو چاقو سے ذبح کر دوں گا۔

عائشہ نے دعویٰ کیا ہے ڈی پی او غیر قانونی طور پر مجھے اور میرے بچے کی جان کا دشمن بنا ہوا ہے۔ عائشہ نے کہا کہ اگر مجھے اور میرے بچے کو کچھ ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری ڈی پی او صادق بلوچ پر عائد ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ میں ایسی ماں نہیں جو بچے کو مار دے تاہم اگر مدد نہ ملی تو میں خود اور بیٹے کو خودکشی کر لوں گی۔ یہ فیملی معاملہ نہیں یہ مجرمانہ ہے۔ جو مجھے بلیک میلر کہتے ہیں وہ دیکھیں کہ میرے بیٹے کو سامنے آنکھوں کے سامنے کیا ہوا۔

دوسری جانب ڈی پی او صادق حسین بلوچ یا پنجاب پولیس کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کے دفتر سے بھی کوئی ردعمل نہیں ملا لیکن توقع ہے کہ یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر نوٹس لیا جائے گا۔

Related Posts