احتجاج کے پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے؟ ایران میں 30 مساجد نذر آتش کرکے شہید کردیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

ایران میں جاری ملک گیر احتجاجی مظاہرے اب انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔ تہران کے میئر علی رضا زاکانی نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں مظاہرین نے 30 سے زائد مساجد کو آگ لگا دی ہے۔ یہ مساجد اسلامی جمہوریہ ایران کی مذہبی اور سیاسی طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس اور تصدیق شدہ ویڈیوز کے مطابق تہران کے شمالی علاقوں سعادت آباد اور گھولک میں واقع مساجد کو آگ لگائی گئی۔ ایک ویڈیو میں الرسول مسجد شعلوں میں گھری دکھائی دے رہی ہے جبکہ مظاہرین موت بر آمر اور موت بر خامنہ ای کے نعرے لگا رہے ہیں۔

احتجاجی مظاہرے زاہدان (مکی مسجد کے قریب) تک پھیل گئے جہاں سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی جس سے مزید جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ مظاہرین نے بینکوں، سرکاری عمارتوں اور دیگر اہم مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

یہ احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر 2025 سے شروع ہوئے تھے جن کی بنیاد ریال کی تاریخی گراوٹ، 50-70 فیصد مہنگائی، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور معاشی بحران پر تھی۔ اب یہ احتجاجات مکمل طور پر سیاسی ہو چکے ہیں جہاں مظاہرین سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف براہِ راست نعرے لگا رہے ہیں اور بعض مقامات پر شہنشاہی دور کا پرچم (شیر و خورشید) لہرا رہے ہیں۔

حکومت کا ردعمل:

حکومت نے ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے تاکہ ویڈیوز اور معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے سبوٹیج کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اب تک کم از کم درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں جبکہ سینکڑوں افراد زخمی اور ہزاروں مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

Related Posts