باجوڑ میں فوج کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن! 10 دہشتگرد ہلاک؛ اندرونی کہانی کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

باجوڑ کے تحصیل ماموند کے علاقے شاہی تنگی میں اتوار کے روز سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ایک آپریشن میں کم از کم 10 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مکمل سرچ آپریشن شروع کیا اسی دوران وہاں موجود مسلح افراد نے فائرنگ کر دی جس کے بعد دونوں جانب شدید جھڑپ ہوئی۔ اس تصادم میں تقریباً 10 شدت پسند مارے گئے جیسا کہ صحافی حسبان اللہ نے مقامی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا تاہم عسکریت پسندوں کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

باجوڑ وہ حساس علاقہ ہے جو افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ سے سرحدی طور پر منسلک ہے اور طویل عرصے سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ پاکستانی شدت پسند افغانستان کے صوبے کنڑ میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتے ہیں تاہم ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہ اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی کارروائیاں پاکستان کے اندر ہی ہوتی ہیں۔

مقامی رپورٹس کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن اب بھی جاری ہے اور اسے مکمل سیکیورٹی تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے صورتحال کو مکمل کنٹرول میں لانے کے لیے مزید کارروائیاں کر رہے ہیں۔

سرحدی علاقے میں گزشتہ کئی برسوں سے شدت پسند سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سابق ٹی ٹی پی سربراہ مولوی فضل اللہ 2018 میں افغانستان کے صوبہ کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس خطے میں شدت پسندی کا مسئلہ سرحد پار تک پھیلا ہوا ہے اور سیکیورٹی ادارے آج بھی اسی چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔

Related Posts