پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ایک سنگین سماجی اور اخلاقی بحران کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، خاص طور پر دینی مدارس اور مساجد جیسے مقدس مقامات میں پیش آنے والے ایسے واقعات نے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
حال ہی میں راولپنڈی کے علاقے دھمیال کیمپ کی ایک مسجد میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں ایک قاری پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے بارہ سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
ملا کی منطق
ابلیس کہتا ہے کہ ابلیس کو گرفتار کرو"مجھے نہیں ابلیس کو گرفتار کریں مجھے ابلیس نے ورغلایا تھا"
بچے سے بدفعلی کرنے والے قاری کا بیان
راولپنڈی دھمیال کیمپ کی مسجد میں قاری صاحب کی بارہ سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی ۔
پولیس کے مطابق ملزم زیادتی کرنے سے قبل اور بعد میں… pic.twitter.com/9D5PuS19K5— Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan (@DCFAPakistan) September 21, 2025
پولیس کے مطابق ملزم قاری حسبِ سابق مذہبی عبادات میں مصروف رہا جس کی وجہ سے والدین کو اس کے کردار پر شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آئی۔
والدین نے بتایا کہ قاری صاحب کا بظاہر نیک اور مذہبی کردار ان کے لیے ایک قابلِ اعتماد شخصیت کی عکاسی کرتا تھا جس کی وجہ سے وہ اس بات پر یقین کرنے سے قاصر تھے کہ ان کا بچہ اس طرح کے گھناؤنے جرم کا شکار ہو سکتا ہے۔
ملزم نے اپنے دفاع میں ایک عجیب و غریب بیان دیا کہ بچے کا غیر مناسب لباس اس فعل کی وجہ بنا، جس نے اس کے سفلی جذبات کو بیدار کیا۔
مزید برآں اس نے کہا کہ اسے ابلیس نے ورغلایا اور اس لیے اصل قصوروار وہ نہیں بلکہ ابلیس ہے۔ پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
اس واقعے نے مقامی کمیونٹی میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے اور لوگ سخت سزا کے مطالبات کر رہے ہیں۔
ان واقعات نے نہ صرف بچوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں بلکہ معاشرتی رویوں، قانون کی عملداری، اور اداروں کی ذمہ داریوں پر بھی گہری بحث چھیڑ دی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








