مصنوعی ذہانت انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے، ماہرین

تازہ ترین

تازہ ترین

نیو یارک: اوپن آرٹیفیشل انٹیلی جنس ( اے آئی ) کے سربراہان اور ٹیکنالوجی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق درجنوں افراد نے سنٹر فار اے آئی سیفٹی کے ویب پیج پر شائع ہونے والے بیان کی حمایت کی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ اے آئی سے معدومیت کے خطرے کو کم کرنا دیگر سماجی سطح کے خطرات جیسے کہ وبائی امراض اور ایٹمی جنگ کے ساتھ ساتھ ایک عالمی ترجیح ہونی چاہیے۔

چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو سیم آلٹ مین، گوگل ڈیپ مائنڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیمس ہسابیس اور اینتھروپک کے ڈاریو آمودی نے بھی اس بیان کی حمایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

پاکستانی ماہرین کا بڑا کارنامہ، کھولے بغیر پھلوں کی مٹھاس بتانے والا نظام بنالیا

اسی طرح ڈاکٹر جیفری ہنٹن جنہوں نے AI سے خطرات کے بارے میں پہلے انتباہ جاری کیا تھا انہوں نے بھی سنٹر فار AI سیفٹی کے بیان کی حمایت کی ہے۔

قبل ازیں مارچ 2023 میں ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک سمیت ماہرین نے ایک خط پر دستخط کیے تھے جس میں AI ٹیکنالوجی کو روکنے پر زور دیا گیا تھا۔

اوپن اے آئی نے حال ہی میں ایک بلاگ پوسٹ میں تجویز کیا کہ سپر انٹیلی جنس کو جوہری توانائی کی طرح ریگولیٹ کیا جاسکتا ہے۔

سنٹر فار AI سیفٹی نے کہا کہ ہمیں ممکنہ طور پر سپر انٹیلی جنس کی کوششوں کے لیے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی جیسی کسی چیز کی ضرورت ہوگی۔

Related Posts