راولپنڈی میں تھانہ روات کے اے ایس آئی کا جرائم پیشہ افراد کے ساتھ مبینہ طور پر گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دو شہریوں کاشف اور علی محمد کے درمیان باقاعدہ معاہدے کے تحت سلنڈروں کی خریداری کی گئی۔ کاشف نے علی محمد سے سلنڈر خریدے تھے۔معاہدے میں گواہ موجود ہیں جبکہ ایگریمنٹ اسٹامپ پیپر پر کیا گیا۔
بعد ازاں فروخت کنندہ علی محمد کے رشتہ داروں کی طرف سے ایک بے بنیاد درخواست دی گئی کہ ہمارے سلنڈر چوری ہوگئے ہیں۔علی محمد نے مختلف جگہ سلنڈر فروخت کیے جن کا باقاعدہ طور پر اسی وقت معاہدہ ہوا۔
تھانہ روات کے اے ایس آئی نے مبینہ طور پر فروخت کنندہ سے مل کر خریداروں کو ناجائز تنگ کرنا شروع کر دیا ۔ اے ایس آئی امتیاز نے کاشف کے والد کو ڈرا دھمکا کر ڈیڑھ لاکھ روپے طلب کیے جس میں سے 50 ہزار روپے وصول کیے۔
تھانہ روات کے پولیس اہلکار نے کاشف اور اس کے والد کو دھمکی دی کہ اگر آپ نے کسی کو یہ بات بتائی تو میں آپ دونوں پر چوری کا مقدمہ کر دوں گا۔ کاشف کے والد نے رشوت دینے کے بعد متعلقہ ایس پی کو انکوائری کے لئے درخواست دے دی ہے۔
کاشف کے والد نے آر پی او راولپنڈی اور سی پی او راولپنڈی سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی مکمل چھان بین کی جائے۔انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے پولیس اور جرائم پیشہ افراد کے گٹھ جوڑ سے میرے بیٹے کو یرغمال بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہوٹل میں سابق فوجی افسر کی توڑ پھوڑ،پولیس ملزم کے ساتھ مل گئی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








