وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس کی بلا جواز ناکہ بندیاں جاری ہیں جن کے دوران شہریوں کومبینہ طور پر بلا جواز گرفتار کرکے حوالات میں بند کرنا معمول بن گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے پولیس ناکوں کو ختم کرنے کے اعلان کے باوجود وفاقی پولیس کی مال بناؤ ناکہ بندیاں جاری ہیں۔ تھانہ شمس کالونی کا علاقہ شہریوں کے لیے علاقہ غیر بن گیا۔
موٹر سائیکل سواروں کی پکڑ دھکڑ، دودھ دہی کے لیے مارکیٹ جانے والے، مہمانوں اور دفاتر سے واپس جانے والوں کواندرون آبادی کی گلیوں، ریلوے پھاٹک اور رہائشی علاقوں سے بلاجواز پکڑ کر تھانے بند کرنا معمول بن چکاہے۔
دوسری جانب پبلک ٹرانسپورٹ، اے سی بسوں اور سبزی منڈی جانے والی گاڑیوں کو مبینہ بھتہ وصولی کے بعد جی ٹی روڈ کی بجائے سری نگر روڈ سے ہی گزارنے کا غیر قانونی دھندہ عروج پر ہے۔
گولڑہ موڑ، جھنگی سیداں اور پیرودھائی موڑ کے اسٹاپ والی سواریوں کو جی 13 میں اتار دیا جاتاہے لیکن پولیس اہلکار خاموش تماشائی بن کر موٹر سائیکل سواروں کی پکڑ دھکڑ میں مشغول رہتے ہیں۔
اس دوران موٹر سائیکل واپسی کے عوض رشوت بٹورنے کی شکایات بھی عام ہوچکی ہیں۔اہل علاقہ نے وزیراعظم عمران خان، وزیرداخلہ شیخ رشید احمد، حلقہ کے ایم این اے اسد عمر، آئی جی اسلام آباد سمیت متعلقہ حکام سےانصاف کی اپیل کی ہے۔
وفاقی پولیس بالخصوص تھانہ شمس کالونی گولڑہ موڑ کی جانب سے چیکنگ کے نام پر اہل علاقہ اور موٹر سائیکل پر سفرکرنے والے عام شہریوں کا ناطقہ بند کردیا گیاہے۔شام ہوتے ہی ریلوے لائن کے ساتھ اندھیرے مقامات پر پولیس اہلکار کھڑے ہوجاتے ہیں،
اندھیرے مقامات پر کھڑے اہلکار ہر آنے جانے والے موٹر سائیکل سوار کو روک کر مبینہ طورپر دیہاڑی لگاتے ہیں تاہم انکارکرنے والوں کو تھانے میں بند کردیا جاتاہے، پولیس اہلکاروں کا آسان ہدف سودا سلف لینے کے لیے بازار جانے والے نوجوان لڑکےبنتے ہیں۔
اوبر کریم پر بائیک چلانے والے غریب مزدور بھی پولیس کا آصان ہدف بنے ہوئے ہیں جن کا ریلوے پھاٹک کراس کرنا تو دور، محلے کی گلیوں میں بھی چلنا دشوار کردیاگیاہے۔ تھانہ کی عمارت گھروں کے اندر ہونے کے باعث گلی میں بیرئیر لگا دیا گیاہے۔
اس علاقے میں اہل محلہ کی آمدورفت بھی ناممکن بنا دی گئی ہے،دوسری جانب موٹر وے اور جی ٹی روڈ پشاور کی طرف سے آنے والی گڈز ٹرانسپورٹ جس کا داخلہ سری نگر ہائی وے پر منع ہے دھڑلے سے جی ٹی روڈ کی بجائے اسی راستے سے سبزی منڈی جارہی ہے۔
غیر قانونی اقدام کے باعث سری نگر ہائی وے پر ٹریفک کا اژدھام رہتا ہے۔ جی 11 اشارے پر ٹریفک جام معمول اور حادثات عام ہوگئے ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کاہے کہ رات 8 بجے سے صبح 8 بجے تک لاہور، پشاوراور میانوالی کی جانب سے آنے والی بڑی کوچز بھی یہی کرتی ہیں۔
ایسی کوچز اپنے مقررہ روٹ پشاور روڈ براستہ پیر ودھائی اورآئی جے پی روڈ کی بجائے موٹروے سے سیدھا سری نگر ہائی وے کے ذریعے لاری اڈہ کی جانب چلی جاتی ہیں جس سےاسلام آباد کے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔
جھنگی سیداں، گولڑہ موڑ، نصیرآباد، پیرودھائی موڑ، صدر راولپنڈی اور گردو نواح کی جانب جانے والی سواریوں کو رات کے وقت ویرانے میں ہی اتار دیاجاتاہے۔ شمس کالونی پولیس کی ان چیرہ دستیوں کے خلاف ا ہل علاقہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں اے ایس آئی کا جرائم پیشہ افراد سے مبینہ گٹھ جوڑ بے نقاب
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








