راولپنڈی:گوجرانوالا میں قانون کے رکھوالوں نے معصوم لڑکی کی عزت تار تار کردی،تفتیش کے لئے آنے والے اے ایس آئی مبشر نے معصوم لڑکی سے بیان لینے کے بہانے سب گھر والوں کو کمرے سے باہر نکال کر شیطانی کھیل کھیلا۔لڑکی کو منہ بند رکھنے کے لیے دھمکیاں بھی دیں۔
گوجرانوالہ میں ایک جھگڑے کی تفتیش کرنے والے اے ایس ایم مبشر نے لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، متاثرہ لڑکی کے ویڈیو بیان کے مطابق لڑکی کا کہنا ہے کہ ہمارے محلے میں ہمارا جھگڑا ہوگیا تھا،میں نے متعلقہ تھانے میں فون کیا تو تھوڑی دیر کے بعد پولیس کا اے ایس آئی مبشر اور اس کے ساتھ دیگر پولیس اہلکار بھی آگئے۔
اے ایس آئی مبشر نے پوچھا کہ لڑائی کے بارے میں کون اپنا بیان ریکارڈ کرائے گا تو میں نے کہا کہ میں کراؤں گی، یا میرے والد بیان دیں گے، تو اے ایس آئی نے کہا کہ تم ہی بیان دے دو، تو اے ایس آئی مبشر نے میرے والد سمیت سب گھر والوں کو کمرے سے باہر نکال دیا۔
اس دوران اس نے میرے ساتھ زبردستی زیادتی کی،پھر مجھ سے جھگڑے کے متعلق پوچھا کہ کیا جھگڑاہوا ہے، اس پر میں ہکا بکا رہ گئی،اے ایس آئی مبشر تو جھگڑے کی تفتیش کے لئے آیا تھا اور اس نے میرے ساتھ زیادتی کر ڈالی۔
اس کے بعد مجھے اور میرے والدین کو تھانہ کینٹ گجرانوالہ لے گئے،مجھے اور میرے اہل خانہ کو سات گھنٹے تک تھانہ کینٹ گجرانوالہ میں بٹھائے رکھا اور کہا کہ اپنا بیان تبدیل کرو کہ اے ایس آئی مبشر نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی۔پولیس اپنے پیٹی بھائی کو بچانے کے لیے میدان میں اتر آئی ہے۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ ہم بہت غریب لوگ ہیں میرا باپ مزدور ہے،میں ہاتھ جوڑ کر سی پی او گوجرانوالہ آئی جی پنجاب اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے انصاف کی بھیک مانگتی ہوں،اے ایس آئی مبشر نے میری زندگی برباد کر ڈالی ہے،میں سب رشتہ داروں میں بد نام ہو گئی ہوں، خدارا اس وحشی درندے کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور میرا میڈیکل کرایا جائے،اس درندے کو نشان عبرت بنایا جائے،جس نے میرا سب کچھ برباد کر دیا ہے۔