متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) جو کبھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپنے سخت تنظیمی ڈھانچے، نظم و ضبط اور متحدہ قوت کے لیے مشہور تھی آج الطاف حسین کی عدم موجودگی میں شدید داخلی انتشار کا شکار نظر آ رہی ہے۔ یہ انتشار اب صرف پارٹی کے اندرونی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ سندھ اسمبلی جیسے اعلیٰ ایوان میں بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے جہاں پارٹی کے ارکان ایک دوسرے پر قتل کی دھمکیاں دینے اور تشدد کے الزامات لگا رہے ہیں۔
سندھ اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن شوکت راجپوت نے اپنی ہی پارٹی کے رکن شارق جمال اور ایم این اے اقبال محسود پر سنگین الزامات عائد کیے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں مسلح افراد کی موجودگی میں دھمکیاں دی گئیں جن میں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی شامل تھیں۔ شوکت راجپوت نے اسے انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے فوری پولیس کارروائی، اپنے تحفظ کی ضمانت اور ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کیا۔
الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم کی حقیقت
الطاف حسین کی لندن میں موجودگی اور پارٹی سے دوری (اور حالیہ برسوں میں ان کی پارٹی سے علیحدگی یا اخراج جیسے اقدامات) نے ایم کیو ایم کو ایک ایسے خلا میں ڈال دیا ہے جہاں مرکزی قیادت کا فقدان پارٹی کو دھڑوں میں تقسیم کر رہا ہے۔ ایک طرف پی ایس پی اور دوسری طرف موجودہ ایم کیو ایم پاکستان (خالد مقبول صدیقی گروپ) کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ تقسیم اب تنظیمی نہیں بلکہ ذاتی اور گروہی سطح پر پہنچ چکی ہے، جو پارٹی کی سابقہ آئرن ڈسپلن کی تصویر کو مکمل طور پر مسخ کر رہی ہے۔
سندھ اسمبلی پر اثرات: ایم کیو ایم کے یہ داخلی جھگڑے ایوان کی کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف قانون سازی اور صوبائی مسائل پر بحث ہونی چاہیے وہاں ارکان ایک دوسرے پر دھمکیاں دے رہے ہیں۔ یہ نہ صرف ایم کیو ایم کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ سندھ اسمبلی کو ایک جھگڑوں کا میدان بنا رہا ہے جو جمہوری اداروں کی ساکھ کے لیے خطرناک ہے۔
پیپلز پارٹی کا کردار: دلچسپ بات یہ ہے کہ جس پیپلز پارٹی کے ساتھ ایم کیو ایم طویل عرصے سے سیاسی دشمنی اور مقابلے میں رہی ہے وہی آج ایم کیو ایم کے داخلی تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ صورتحال ایم کیو ایم کی کمزوری کو عیاں کرتی ہے کہ اب وہ اپنے اندرونی معاملات بھی خود نہیں سنبھال پا رہی اور مخالف جماعت کو مدد کے لیے پکارنا پڑ رہا ہے۔
حکومتی ردعمل اور مستقبل: وزیر داخلہ ضیا لنجار کا بیان کہ اراکین کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور دھمکیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا مثبت ہے لیکن اگر یہ داخلی انتشار جاری رہا تو ایم کیو ایم کی سیاسی طاقت مزید کمزور ہو گی خاص طور پر کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں جہاں اس کی بنیاد ہے۔ اگر پارٹی قیادت اسے قابو نہ کر سکی تو یہ نہ صرف ایم کیو ایم کی بقا بلکہ سندھ کی مجموعی سیاسی استحکام کے لیے بھی سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان الطاف حسین کے بغیر ایک بغیر قیادت کی پارٹی بن چکی ہے جہاں دھڑوں کی لڑائی اور ذاتی مفادات مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ واقعہ پارٹی کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اگر فوری طور پر متحدہ قیادت اور نظم و ضبط بحال نہ کیا گیا تو یہ جماعت، جو کبھی مثال تھی اب صرف ایک تقسیم شدہ گروہ کی شکل اختیار کر لے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








