اسلام آباد: اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کی رکن ایمان مزاری کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
ایمان مزاری کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی۔ ایمان مزاری کے وکلا کی درخواست پر عدالت نے ضمانت کی رقم ایک لاکھ سے کرکے 50ہزار کردی اور ان کی رہائی کا حکم دیا۔
ایک روز قبل اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایمان مزاری کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
ایمان مزاری کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جمعہ کو ان کی والدہ سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری بھی عدالت میں موجود تھیں۔
مزاری کے وکیل نے گرفتاری کے بعد ضمانت کی درخواست بھی دائر کی جس پر عدالت نے 4 ستمبر کی تاریخ مقرر کی۔
مزاری کے وکلاء نے کارروائی ختم ہونے کے بعد اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکرٹری کے ہمراہ عدالتی عملے کو بتایا کہ وہ کارروائی کی تاریخ میں تبدیلی کی درخواست کرنا چاہتے ہیں۔
وکلا نے جج سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی، جہاں 2 ستمبر کی تاریخ پیش کی گئی۔ جب شیری مزاری کے وکیل نے جج کو بتایا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، تو جج نے حکم دیا کہ انہیں اسلام آباد کے خواتین پولیس اسٹیشن میں رکھا جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








