بھارتی مسلمانوں سے دفن ہونے کا حق بھی چھن گیا، شدت پسندوں کا قبرستان پر حملہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ممبئی میں بھارتی مسلمانوں سے دفن ہونے کا حق بھی چن گیا، شدت پسندوں نے بین المذاہب قبرستان پر حملہ کردیا اور ریلی نکال کر احتجاج بھی کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ممبئی کے قصبے نالا سوپارا میں شدت پسند ہندوؤں نے گزشتہ روز احتجاج کے دوران یہ متعصبانہ مطالبہ کیا کہ بین المذاہب قبرستانوں میں مسلمانوں کی قبروں کو جگہ نہ دی جائے۔ مظاہرے کا اہتمام ساکل ہندو سماج نامی تنظیم نے کیا۔

یہ بھی پڑھیں:

اٹلی میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 33 افراد جاں بحق

شدت پسند تنظیم کے لائے ہوئے مظاہرین نے قبرستان کی سمت پتھراؤ بھی کیا جس کے دوران نالا سوپارہ پولیس کو متعصب ہندوؤں کو منتشر کرنے کیلئے تھوڑا بہت لاٹھی چارج کرنا پڑا جس کے بعد تمام تر علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ قبرستان کا تنازعہ 3 چار سال سے چل رہا ہے۔نالاسوپارہ کے علاقے سن سٹی میں بین المذاہب قبرستان میں مسلمانوں کا قبرستان بھی قائم ہے تاہم شدت پسندوں کا کہنا ہے کہ ہندو اکثریتی علاقے میں مسلمانوں کی تدفین ہی نہیں ہونی چاہئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کی صبح ساڑھے دس بجے ہندو قبرستان کے قریب جمع ہوئے۔ کچھ لوگوں نے قبرستان کے گیٹ پر چڑھ کر دیوار توڑنے کی کوشش بھی کی۔ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔

Related Posts