ایران پر حملہ، ٹرمپ کی سیاسی خودکشی؟ کانگریس میں مواخذے کی بازگشت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ این بی سی)

مشرقِ وسطیٰ میں جنگی شعلے بھڑکانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب اپنے ہی ملک میں شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہیں۔

ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے ایران پر فضائی حملوں کو نہ صرف غیر آئینی قرار دیا بلکہ اسے مواخذے کے قابل جرم عمل بھی کہہ دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے سخت بیان میں کورٹیز نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے بغیر کانگریس کی منظوری ایک جنگ کا دروازہ کھولا، یہ نہ صرف امریکی آئین بلکہ کانگریس کے جنگی اختیارات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک جذباتی اور خطرناک اقدام تھا جو امریکہ کو نسلوں تک ایک طویل تنازع میں دھکیل سکتا ہے۔یہ فیصلہ، مکمل طور پر اور واضح انداز میں، مواخذے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے پہلے سوشل میڈیا پر ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان پر حملے کی کامیابی کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد اپنے قوم سے خطاب میں کہا کہ ہم نے ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ابھی بہت سے اہداف باقی ہیں، اگر امن نہ ہوا تو ہم اگلے مرحلے پر بھی عملدرآمد کریں گے۔

Related Posts