خیبر پختونخوا میں 6ارب روپے کے گندم اسکینڈل کا بھانڈا پھوٹ گیا، آڈٹ رپورٹ نے ہوش اُڑا دیے

تازہ ترین

تازہ ترین

Wheat crisis deepens in Balochistan as food department runs out of stock
ONLINE/FILE

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں خیبر پختونخوا میں 6اعشاریہ 13 ارب روپے مالیت کے گندم درآمدی اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے جس نے نہ صرف صوبائی حکومت کی گورننس پر سوالات اٹھا دیے بلکہ قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔

یہ اسکینڈل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت بھی گندم کی خریداری میں بدعنوانی کے الزامات کی زد میں ہے۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے لیے تقریباً 2 لاکھ میٹرک ٹن گندم 6اعشاریہ 13 ارب روپے میں خریدی گئی جس میں بڑی مقدار ایسی گندم کی تھی جو یا تو زائد المیعاد ہوچکی تھی یا خراب ہونے کے قریب تھی۔

آڈٹ ٹیم نے انکشاف کیا کہ 2021 اور 2022 میں خریدی گئی گندم کی بھاری مقدار تاحال گوداموں میں پڑی ہے جس کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور اسے استعمال کرنا صحتِ عامہ کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔

رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ناقص، پرانی اور غیر معیاری گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی بدترین انتظامی غفلت کا مظہر ہے جس کے باعث نہ صرف عوامی فنڈز ضائع ہوئے بلکہ غذائی تحفظ کے حوالے سے بھی سنگین خدشات جنم لے چکے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ نے متعلقہ حکام کی غفلت کو مجرمانہ قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری سخت کارروائی کی سفارش کی ہے۔

یہ اسکینڈل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی معاشی دباؤ، مہنگائی اور غذائی قلت جیسے بحرانوں کا شکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ذمہ دار عناصر کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو یہ معاملہ نہ صرف عوامی اعتماد کو مزید مجروح کرے گا بلکہ آنے والے وقت میں فوڈ سیکورٹی کے ایک بڑے خطرے کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔

Related Posts