یورپی یونین نے شینجن ویزا کے نظام کو 2028 تک مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد پاکستانی شہریوں سمیت دنیا بھر سے یورپ جانے والے افراد کو روایتی ویزا اسٹیکر کی ضرورت نہیں رہے گی۔ یہ اقدام سفری نظام کو جدید، مؤثر اور محفوظ بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس انقلابی تبدیلی کے بعد پاسپورٹ پر ویزہ اسٹیکر لگانے کی روایت ختم ہو جائے گی اور درخواست گزاروں کو ایک محفوظ دو جہتی کوڈ والا ویزہ الیکٹرانک طور پر جاری کیا جائے گا جو بذریعہ ای میل یا موبائل ایپ دستیاب ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد ویزہ کے حصول کے عمل کو آسان، شفاف، جدید اور محفوظ بنانا ہے۔
ڈیجیٹل ویزہ نظام کے تحت درخواست گزار ایک مرکزی آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے تمام مطلوبہ دستاویزات اپلوڈ کر سکیں گے، فیس ادا کریں گے، درخواست کی پیش رفت دیکھ سکیں گے اور ویزہ حاصل کر سکیں گے۔
صرف وہ افراد جن کی حیاتیاتی معلومات پہلے سے موجود نہیں ہوں گی، انہیں ابتدائی طور پر ویزہ مرکز جانا پڑے گالیکن آئندہ تجدیدات کا عمل بہت سہل ہوگا۔ فرانس اس نظام کا تجربہ پہلے ہی کر چکا ہے جہاں 2024 کے پیرس اولمپکس کے دوران ستر ہزار افراد کو ڈیجیٹل ویزے جاری کیے گئے۔
اس کے علاوہ یورپی اتحاد دو دیگر جدید سرحدی کنٹرول نظام بھی متعارف کروا رہا ہے۔ ایک نظام میں اکتوبر 2025سے حیاتیاتی تصدیق کے ذریعے سرحدوں پر آمد و رفت کا اندراج کیا جائے گا جس میں فنگر پرنٹس اور چہرے کی شناخت شامل ہوگی۔
دوسرا نظام 2026کے اختتام تک نافذ کیا جائے گا جس کے تحت مخصوص اقسام کے سفری دستاویزات رکھنے والے افراد کو پیشگی اجازت لینا ہوگی۔
اگرچہ ان تبدیلیوں سے عمومی ویزہ ضوابط میں فرق نہیں آئے گاتاہم یورپی ممالک میں داخلے اور اخراج کے طریقہ کار میں شفافیت اور سیکورٹی نمایاں حد تک بہتر ہو گی۔
یورپی ممالک کی جانب سے ایک لچکدار سیاحتی ویزہ نظام پر بھی غور جاری ہے جو شینگن اور غیر شینگن ممالک کے درمیان سفر کو سہل بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اٹلی کا مجوزہ جوبلی ویزہ اور یونان کی حمایت اس سوچ کو تقویت دے رہے ہیں۔ پاکستانی مسافروں کے لیے یہ تمام تبدیلیاں خوش آئند ہیں کیونکہ ان سے نہ صرف وقت بچے گا بلکہ سفری تجربہ بھی بہتر ہو گا۔
ڈیجیٹل ویزہ، بائیومیٹرک گیٹس اور آن لائن اجازت نامے کے ذریعے مستقبل میں یورپ کا سفر نہایت آسان، تیز اور محفوظ ہو جائے گا۔
سال 2028تک شینجن ویزہ کا مکمل ڈیجیٹل نظام نافذ ہو جانے کے بعد پاکستانی مسافروں کو ویزہ حاصل کرنے کے لیے سفارت خانوں کی قطاروں اور پیچیدہ کاغذی کارروائیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








