فادر مشتاق پیارا کی موت کیسے ہوئی؟ المناک ٹرین حادثے میں معجزانہ طور پر محفوظ فادر ظفر تنویر کے اہم انکشافات، ویڈیو

تازہ ترین

تازہ ترین

August 16 Train Accident Story by Fr. Zafar Tanveer
ONLINE

سیالکوٹ میں 16 اگست کو ٹرین حادثے میں لقمہ اجل بننے والے مشتاق پیارا کے ساتھ گاڑی میں موجود فادر ظفر تنویر نے واقعہ کے حوالے سے اہم انکشافات کئے ہیں۔

کیتھولک ٹی وی پاکستان پر نشر ہونے والی ویڈیو میں ریورنڈ فادر ظفر تنویر نے 16 اگست کو پیش آنے والے المناک ٹرین حادثے کے لمحہ بہ لمحہ واقعات بیان کیے۔

اس حادثے میں فادر مشتاق پیارا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ فادر ظفر تنویر محفوظ رہے۔ فادر ظفر تنویر کی یہ روداد نہ صرف ایک دردناک ذاتی تجربہ ہے بلکہ معاشرتی سطح پر ٹریفک اور ٹرانسپورٹ سیفٹی کے حوالے سے ایک سبق آموز کہانی بھی ہے۔

اپنے بیان میں فادر ظفر تنویر نے سب سے پہلے فادر مشتاق پیارا کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ چرچ نے ایک عظیم اور مخلص کاہن کھو دیا جن کی محبت اور قربانی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔

ان کے جنازے میں دور دراز سے آئے لوگوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ انہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔

حادثے کے بارے میں فادر ظفر تنویر نے بتایا کہ وہ دونوں جب گاڑی کے ذریعے ٹریک پر پہنچے تو درختوں کی اوٹ کی وجہ سے انہیں قریب آتی ہوئی ٹرین نظر نہ آئی۔

اچانک فادر مشتاق نے خبردار کیا کہ ٹرین آ رہی ہے لیکن وقت اتنا قلیل تھا کہ گاڑی رُک گئی اور چند ہی لمحوں میں ٹرین ان کے قریب پہنچ گئی۔

 

فادر مشتاق گاڑی سے نکلنے کی کوشش میں بدقسمتی سے پٹری پر گرگئے اور موقع پر ہی خدا کو پیارے ہوگئے۔ فادر تنویر گاڑی کے اندر ہی رہے اور ٹرین گاڑی کو کھینچتے ہوئے نہر کے پل تک لے گئی۔ بعد ازاں وہ محفوظ طور پر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ٹرین کو روکنے میں ڈرائیور نے بروقت فیصلہ کیا تو کئی جانیں بچ گئیں تاہم جب پولیس اہلکاروں نے انہیں دوسرے مقام پر منتقل کیا تو انہیں اس صدمہ خیز خبر سے آگاہ کیا گیا کہ فادر مشتاق پیارا اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

فادر تنویر نے گہرے دکھ کے ساتھ کہا کہ یہ لمحہ ان کے لیے ناقابلِ بیان تھا مگر وہ خدا کے شکر گزار ہیں جس نے انہیں ایک نئی زندگی عطا کی۔

فادر ظفر تنویر کے مطابق یہ حادثہ انسان کے بس سے باہر تھا لیکن خدا نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹی سی گاڑی کا ٹرین کے آگے آ جانا کسی معجزے سے کم نہیں تھا، مگر قدرت نے انہیں زندہ رکھا تاکہ وہ اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

انہوں نے دعا کی کہ خدا فادر مشتاق پیارا کو اپنی بارگاہ میں بلند درجات عطا کرے اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔

Related Posts