پنجاب کے مختلف اضلاع میں مسلسل مون سون بارشوں اور بھارت کی جانب سے دریاؤں میں اضافی پانی چھوڑنے کے باعث شدید سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
دریائے راوی، چناب اور ستلج کے کنارے پھٹنے کے قریب ہیں جس کے نتیجے میں درجنوں دیہات ڈوب گئے، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، سڑکیں اور ریلوے ٹریک بہہ گئے جبکہ 7افراد جاں بحق ہوگئے۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کے مطابق ہیڈ قادرآباد پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 9 لاکھ 96 ہزار کیوسک تک پہنچ گئی ہے جو ڈیزائن کردہ گنجائش سے تقریباً دو لاکھ کیوسک زیادہ ہے۔
دباؤ خاص طور پر بائیں کنارے پر خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے جس سے شگاف پڑنے کا خدشہ ہے۔ اس صورتِ حال پر فوری طور پر حافظ آباد اور چنیوٹ کے حساس علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ ریسکیو ادارے اور ضلعی انتظامیہ حفاظتی پشتوں کو مضبوط بنانے میں مصروف ہیں۔
گوجرانوالہ ڈویژن میں بارشوں اور دریاؤں کے طغیانی کے باعث 7افراد جاں بحق اور 3لاپتہ ہوگئے ہیں۔ سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں تین افراد کو پانی بہا لے گیا جن کا تاحال سراغ نہیں مل سکا۔
نارووال میں درجنوں دیہات زیر آب آگئے ہیں، شاہراہ شکرا گڑھ نارووال سمیت اہم راستے اور قلعہ احمد آباد کے قریب ریلوے ٹریک بہہ جانے سے ٹرین سروس معطل ہوگئی ہے۔
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر بھی بڑا ریلا گزر رہا ہے جہاں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 25 ہزار کیوسک سے بڑھ گیا ہے اور امکان ہے کہ یہ ایک لاکھ 60 ہزار کیوسک تک جا پہنچے۔ متعدد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو فوری انخلا کی ہدایات دی گئی ہیں۔
وزیرآباد میں پلکھو نالہ کے شگاف کے باعث شہر اور گردونواح کے علاقے ڈوب گئے ہیں۔ گوجرانوالہ کے دیہی علاقوں میں پانچ ہزار ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی ہے جبکہ حافظ آباد کے گاؤں سجادہ میں پل منہدم ہوگئے۔ مظفرگڑھ میں بھی پانی داخل ہوگیا ہے اور اگلے چند دنوں میں مزید بڑے ریلے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ستلج میں قصور کے قریب گنڈا سنگھ والا کے مقام پر سیلاب کو انتہائی اونچا قرار دیا گیا ہے۔
بہاولنگر، وہاڑی اور میلسی میں کپاس اور دھان کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ میلسی میں حفاظتی بند ٹوٹنے سے کھیت اور مکانات پانی میں ڈوب گئے۔ ملتان کے جلال پور پیروالہ میں بھی پانی گھروں میں داخل ہوگیا ہے اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔
محکمہ موسمیات نے 29 اگست سے 2 ستمبر تک مزید شدید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے نمی کے بادل پاکستان میں داخل ہوں گے جبکہ 30 اگست کو مغربی سسٹم بھی پہنچے گا۔
ان بارشوں سے کشمیر، مری، اسلام آباد، راولپنڈی اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں دریاؤں اور برساتی نالوں میں طغیانی آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان، مری اور آزاد کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے، جس کے پیشِ نظر صوبائی حکومتیں، پی ڈی ایم اے اور فوجی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں تاکہ انسانی جانوں اور املاک کو بچایا جاسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








