آسٹریلین حکومت نے اسلام مخالف نفرت انگیز زہریلا پراپیگنڈہ کرنے والے اسرائیلی انفلوئنسر کا ویزا منسوخ کردیا ہے، جس کے نتیجے میں انفلوئنسر نے ہرزہ سرائی شروع کردی۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلین حکام نے ایسے افراد کے ملک میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا فیسلہ کیا ہے جو نفرت کو فروغ دینے کیلئے آسٹریلیا کا رخ کرنے والے ہوں۔ آسٹریلین وزیر داخلہ ٹونی برک کا کہنا ہے کہ نفرت پھیلانا آسٹریلیا آنے کی کوئی اچھی وجہ نہیں۔
Australian authorities revoked the visa of Jewish influencer Sammy Yahood just three hours before his scheduled flight, citing past social media posts calling for Islam to be banned. Home Affairs Minister Tony Burke said the decision was based on hate speech concerns. Jewish… pic.twitter.com/rMtWBJ26Ws
— Sarah Malcangi (@MalcangiSarah) January 26, 2026
اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یہود نے سوشل میڈیا صارفین کو بتایا کہ آسٹریلین حکام نے اسرائیل سے روانہ ہونے سے صرف 3 ہی گھنٹے پہلے ان کا ویزہ منسوخ کردیا، تاہم آسٹریلین وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا آنے کے خواہش مند افراد درست ویزا کیلئے درخواست دیں۔
وزیر داخلہ ٹونی برک نے مزید کہا کہ جو لوگ آسٹریلیا آنا چاہتے ہیں، وہ درست مقاصد کے ساتھ ملک کا سفر کریں۔
خیال رہے کہ ویزا منسوخی سے چند ہی گھنٹے پہلے اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یہود نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسلام مخالف نفرت انگیز بیان دیتے ہوئے قرار دیا کہ اسلام قابل نفرت نظریہ اور جارحانہ سوچ ہے، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے کڑی تنقید کی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل سیمی یہود برطانوی شہری تھے جس نے حال ہی میں اسرائیلی شہریت حاصل کی اور ماضی میں صومالی نژاد مسلمان رکن کانگریس الہان عمر کو امریکا سے نکالنے کا مطالبہ کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








