ایران میں جنگ بندی اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں کمی لانے کے مشن کیلئے سرگرم عمل ایرانی اسپیکر باقر قالیباف اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج اسلام آباد پہنچیں گے۔
تفصیلات کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب امریکی صدر کی ایرانی تہذیب کو ختم کردینے کی دھمکی کے بعد عالمی سطح پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے میں پاکستان کا کردار کلیدی رہا۔ ذرائع کے حوالے سے دی گئی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان آج بھی امریکا اور ایران کے مابین سفارتی پل کا کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں ملک کی اعلیٰ سطحی سیاسی و عسکری قیادت نے سفارت کاری کا نیا باب رقم کرنے کی تیاری کرلی۔ رپورٹس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر سمیت امریکی وفد پاکستان پہنچے گا۔
اس سے قبل امریکی وفد کے 23 اراکین پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق وفد میں سکیورٹی ماہرین اور ٹیم کے دیگر اراکین شامل ہیں۔ دوسری جانب ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آج رات گئے اسلام آباد پہنچیں گے اور امریکی وفد سے مذاکرات کریں گے۔
قبل ازیں ترجمان وائٹ ہاوس کیرولین لیوٹ نے تصدیق کی تھی کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے اپنی ٹیم اسلام آباد بھیجیں گے۔ ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو آگہی دی ہے کہ ایران کا وفد بھی مذاکرات کیلئے پاکستان پہنچے گا۔ دونوں جانب سے مذاکرات کیلئے اس پیشرفت کو خطے کے امن و سلامتی کیلئے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








