بحریہ ٹاؤن کے بادشاہ کی سلطنت نیلام؛ 2 جائیداد کی نیلامی سے 1 ارب 30 کروڑ کی وصولی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ ان لائن)

قومی احتساب بیورو (نیب) نے معروف رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کی قیمتی جائیدادوں کی نیلامی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام نے پاکستان کی رئیل اسٹیٹ صنعت میں ہلچل مچا دی ہے۔

نیب کے ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق دو اہم جائیدادیں پہلے ہی فروخت ہو چکی ہیں، بحریہ ٹاؤن کارپوریٹ آفس II، جو راولپنڈی کے فیز II، پارک روڈ پر پلاٹ نمبر 7-D پر واقع ہے 88 کروڑ 6 لاکھ روپے میں نیلام ہوا۔ روبیش مارکی اینڈ لان جو اسلام آباد کے بحریہ گارڈن سٹی گولف کورس کے قریب واقع ہے 50 کروڑ 83 لاکھ روپے میں فروخت ہوا۔

ان دونوں جائیدادوں کی فروخت سے اب تک 1.3 ارب روپے سے زائد کی آمدنی ہوئی ہے اور نیلامی کے جاری رہنے کے ساتھ اس رقم میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ نیب حکام کے مطابق آج دن کے اختتام تک تمام فہرست شدہ جائیدادیں فروخت ہو جائیں گی۔

یہ نیلامی اس ہفتے کے شروع میں اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے فیصلے کے بعد شروع ہوئی جس نے نیب کو ملک ریاض سے منسلک بحریہ ٹاؤن کے اثاثوں کی فروخت کی اجازت دی۔ یہ فیصلہ ایک طویل قانونی تنازعے کے بعد سامنے آیا جس نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاروں اور عوام کی توجہ حاصل کی ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ یہ نیلامی ایک شفاف عمل کے تحت کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد عوامی وسائل کی واپسی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ یہ قدم ملک ریاض کے کاروباری امپائر پر بڑھتی ہوئی قانونی دباؤ کا حصہ ہے جو پاکستان کے رئیل اسٹیٹ منظر نامے میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

Related Posts