’’بلکرا‘‘: بچوں اور خواجہ سرا کمیونٹی کے درد پر مبنی ڈرامہ، ناظرین اشکبار

تازہ ترین

تازہ ترین

فائل فوٹو

اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) اور داستان تھیٹر کی شراکت سے پیش کیے گئے تھیٹر ڈرامے “بلکرا” نے ناظرین کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات، سماجی کارکنوں اور تھیٹر سے محبت کرنے والے حاضرین نے اس پروڈکشن کو زبردست داد دی، جبکہ اس کے جرات مندانہ موضوعات نے دیرپا اثر چھوڑا۔

“بلکرا” محض ایک ڈرامہ نہیں، بلکہ ایک سماجی آئینہ ہے جو معاشرے کے دو تلخ ترین حقائق بچوں کے اغوا و استحصال اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے ساتھ روا امتیازی سلوک کو نہایت شدت سے اجاگر کرتا ہے۔ جذبات سے بھرپور مناظر اور دل دہلا دینے والے مکالموں کے ذریعے یہ ڈرامہ اس بے حسی کو بے نقاب کرتا ہے جو ظلم کے تسلسل کو ممکن بناتی ہے۔

مرکزی کردار “موجو” اقتدار، خوف اور منافقت کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے، جو اس تاریک نظام کی نمائندگی کرتا ہے جو سماج کے ہر طبقے میں کسی نہ کسی صورت موجود ہے۔

ڈرامہ مذہبی و اخلاقی تضادات پر بھی گہرا سوال اٹھاتا ہے، یہ دکھاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ کس طرح کسی گانے کو گناہ قرار دیتا ہے لیکن جب وہی نغمہ عقیدت کی آڑ میں پیش ہو تو مقدس سمجھا جاتا ہے، یہی دوہرا معیار انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

“بلکرا” ایک تجرباتی تھیٹر پروڈکشن ہے جس نے روایتی تھیٹر کی حدود سے نکل کر ایجوکیشنل اور سوشل تھیٹر کے عناصر کو یکجا کیا۔ یہ محض تفریح نہیں بلکہ ایک سماجی احتجاج ہے، ایک صدا جو خاموش مظلوموں خاص طور پر بچوں اور خواجہ سرا کمیونٹی کے دکھوں کو آواز دیتی ہے۔

ڈرامے کے اختتام پر ناظرین کھڑے ہو کر دیر تک تالیاں بجاتے رہے۔ کئی افراد نے اس پروڈکشن کو “روح کو جھنجھوڑ دینے والا تجربہ” قرار دیا۔ ڈائریکٹر ارشد منہاس کے مطابق، “بلکرا” صرف کہانی سنانے کے لیے نہیں بلکہ ان سچائیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے ہے جنہیں ہم دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔

یہ پیشکش صرف فن کی کامیابی نہیں بلکہ سماجی بیداری کی ایک نئی لہر ہے، ایک واضح پیغام کہ فن، انصاف اور انسانیت کا رشتہ ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

Related Posts